حجاورعمرہکیفرضیت
عمرہاداکرنےسےحجلازمنہیںہوتاجبتکدوشرطیںنہپائیجائیں
سوال:۔
ایک شخص نے پس انداز رقم مبلغ بیس ہزار روپے اپنے والد مکرّم کے حج کے لئے جمع کی تھی، حج پالیسی کے مطابق بحری جہاز کے ڈیک کا کرایہ ۲۴۹۸۰ روپے گویا ۲۵ہزار روپے ہے۔ علماء سے مشورہ کیا کہ جتنی رقم کی کمی ہے وہ قرض لے کر فارم بھردیا جائے؟ تو علمائے کرام نے قرض سے حج کی ادائیگی کو منع کیا۔ بعدہٗ دریافت کیا گیا کہ عمرہ کرلیا جائے؟ تو اس پر جواب ملا کہ عمرہ کرنے کے بعد حج کا ادا کرنا ضروری ہوجائے گا۔ دریافت طلب اَمر یہ ہے کہ اگر حج کی ادائیگی میں حکومتی قانون کی وجہ سے رُکاوٹ ہے کہ رقم پوری نہیں، لیکن موجودہ رقم سے عمرہ کیا جاسکتا ہے تو آیا یہ دُرست ہے یا نہیں؟ اور کیا عمرہ کرنے کے بعد حج لازمی ہوگا، جبکہ فرضیت ہی میں کمی ہے؟ ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ زندگیٔ مستعار کا کیا بھروسہ! لہٰذا استدعا ہے کہ اس موجودہ رقم سے عمرہ کرلیا جائے تو حج تو لازم نہیں ہوگا؟ جیسا شریعت اجازت دے، جواب دے کر مشکور فرمائیں تاکہ آئندہ رمضان المبارک میں عمرہ کرلیا جائے۔
سوال:۔
اگر کوئی شخص ماہِ حج میں داخل ہوجائے یعنی رمضان المبارک میں عمرے کے لئے جائے اور شوال کا مہینہ شروع ہوجائے تو کیا اس شخص پر حج لازم ہوگا؟ اگر اس شخص نے پہلے حج کیا ہوا ہو تو کیا حکم ہے؟ اور اگر حج نہ کیا ہوا ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب:۔
اگر حج کے دنوں میں آدمی مکہ مکرّمہ پہنچ جائے اور حج تک وہاں ٹھہرنا ممکن بھی ہو تو حج فرض ہوجاتا ہے، اور اگر یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں تو حج فرض نہیں ہوتا۔(۱)
جواب:۔
اگر حج کرچکا ہے تو دوبارہ حج فرض نہیں،(۲) اور اگر نہیں کیا تو اس پر حج فرض ہے، بشرطیکہ یہ حج تک وہاں رہ سکتا ہو یا واپس آکر دوبارہ جانے اور حج کرنے کی اِستطاعت رکھتا ہو، دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک بھی نہ پائی جائے تو اس پر حج فرض نہیں۔(۳)
- (۱) ومن کان داخل المواقیت فھو کالمکی فی عدم إشتراط الراحلۃ أی إذا قدروا علی المشی ۔۔۔ وأما الزاد فلابد منہ فی أیّام اشتغالھم بنسک الحج کما صرح بہ غیر واحد ففی الینابیع لَابد لھم من الزاد وقدر ما یکفیھم وعیالھم بالمعروف وزاد فی السراج الوھاج إلٰی عودھم۔ (إرشاد الساری ص:۳۲، مبحث فی تحقیق الراحلۃ، عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷)۔
- (۲) ولَا یجب فی العمر إلّا مرّۃ واحدۃ ۔۔۔ فما زاد فھو تطوّع۔ (الھدایۃ مع البنایۃ ج:۵ ص:۳، کتاب الحج)۔
- (۳) ایضاً حاشیہ: ومن كان داخل...الخ

