حجاورعمرہکیفرضیت
والدکےنافرمانبیٹےکاحج
سوال:۔
میرا بڑا لڑکا مجھ کو بہت بُرا کہتا ہے، بات اس طرح سے کرتا ہے کہ میں اس کی اولاد ہوں اور وہ میرا باپ ہے۔ میرا دِل اس کی وجہ سے بہت کمزور ہوگیا ہے اور مجھ کو سخت صدمہ ہے۔ میں اس کے لئے ہر وقت بددُعا کرتا ہوں اور خاص کر ہر اذان پر بددُعا کرتا ہوں کہ خداوند کریم اس پر فالج گرائے اور اس کا بیڑا غرق ہوجائے۔ اس کے اس طرزِ عمل پر سخت پریشان ہوں، جھوٹ بہت بولتا ہے۔ جواب دیجئے کہ اس کا خدا کے گھر کیا حال ہوگا؟ اور یہ حج کرنے کو بھی جانے کو ہے، میں تو اس کو معاف کروں گا نہیں، باپ کے ناراض ہونے پر کیا اس کا حج ہوجائے گا؟ سنا تو یہ ہے کہ باپ معاف نہ کرے تو حج نہیں ہوتا، میں اس کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔
جواب:۔
اگر اس کے ذمہ حج فرض ہے تو حج پر تو اس کو جانا لازم ہے،(۱) اور اس کا فرض بھی سر سے اُتر جائے گا۔ لیکن حج پر جانے والے کے لئے ضروری ہے کہ حج پر جانے سے پہلے تمام اہلِ حقوق کے حقوق ادا کرے اور سب سے حقوق معاف کرائے۔(۲) پس آپ کے بیٹے کو چاہئے کہ وہ آپ کو راضی کرلے، اور معافی مانگ لے۔ اگر آپ اس کو معاف نہیں کریں گے تو اس سے اس کا نقصان ہوگا اور آپ کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اور اگر معاف کردیں گے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی حالت سدھر جائے، اس میں اس کا بھی فائدہ ہے اور آپ کا بھی۔
- (۱) وھو فرض علی الفور وھو الأصح فلا یباح لہ التأخیر بعد الْإمکان إلی العام الثانی کذا فی خزنۃ المفتین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۶، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔
- (۲) إذا أراد الرجل أن یحج ۔۔۔ یبدأ بالتوبۃ وإخلاص النیۃ وردّ المظالم والْإستحلال من خصومہ ومن کل من عاملہ کذا فی فتح القدیر۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔

