بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

اِستطاعت‌کے‌باوجود‌حج‌سے‌پہلے‌عمرہ‌کرنا

سوال:۔

واپسی کے بعد سے کچھ حالات مناسب نہیں رہے اور عرصہ تین سال گزرنے پر بھی بے روزگار ہوں، ایک بزرگوار نے ایک خاص بات فرمائی ہے جس کے لئے آپ کی طرف رُجوع کر رہا ہوں۔ فرماتے ہیں کہ: عمرہ کی شرائط یہ ہیں کہ اوّل تو حج سے پہلے عمرہ جائز نہیں، اور اگر کرلیا جائے تو اسی سال حج کرنا لازم ہوجاتا ہے، اگر نہیں کیا تو گناہ گار ہوگا۔ اور اسی وجہ سے مجھے یہ پریشانی ہو رہی ہے، مہربانی فرماکر جواب مرحمت فرمائیں کہ عمرہ بغیر حج کے نہیں ہوسکتا؟ میرے کہنے پر کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی عمرے فرمائے اور حج صرف ایک مرتبہ آخر میں فرمایا، جس کو وہ بزرگوار نہیں مانے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ فرمایا ہے۔

جواب:۔

جس شخص کو ایامِ حج میں بیت اللہ تک پہنچنے اور حج تک وہاں رہنے کی طاقت ہو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے،(۱) اور یہ فرضیت اس پر ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ اس لئے ایسے شخص کو جو صرف ایک بار بیت اللہ شریف تک پہنچنے کے وسائل رکھتا ہے، حج پر جانا چاہئے۔ عمرہ کے لئے سفر کرنا اور فرضیت کے باوجود حج نہ کرنا بہت غلط بات ہے۔ بہرحال آپ پر حج لازم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے حدیبیہ کے سال عمرہ کیا تھا، مگر کفارِ مکہ نے مکہ جانے نہیں دیا، اگلے سال عمرۃ القضا ادا فرمایا۔(۲)

  1. (۱) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ملک زادًا وراحلۃ تبلغہ إلٰی بیت اللہ ولم یحج فلا علیہ أن یموت یھودیًّا أو نصرانیًّا وذٰلک انّ اللہ تبارک وتعالٰی یقول: ﵟ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ ﵞ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۲۲، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔ وھو فرض علی الفور وھو الأصح فلا یباح لہ التأخیر بعد الْإمکان إلی العام الثانی کذا فی خزنۃ المفتین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۶، کتاب المناسک، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  2. (۲) ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابہ أحصروا بالعمرۃ بالحدیبیۃ فقضوھا من القابل وکانت تسمّٰی عمرۃ القضاء۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ ج:۵ ص:۳۷۹، کتاب الحج، باب الْإحصار)۔