حجاورعمرہکیفرضیت
کیابیویکواپنیرقمسےحجکرناچاہئے؟
سوال:۔
میں ایک اِدارے میں ملازم ہوں، اپنی تنخواہ میں اپنی مرضی سے خرچ کرتی ہوں، شوہر کی آمدنی میں شامل نہیں کرتی۔ شوہر کا کہنا ہے کہ میں ملازمت چھوڑ دُوں، لیکن میں ابھی ملازمت چھوڑنا نہیں چاہتی، میں حج پر جانا چاہتی ہوں، شوہر کہتے ہیں کہ اپنے خرچ پر جاؤ۔ ہمارے لئے قرآن وسنت کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
آپ کے نان ونفقہ کے مصارف شوہر کے ذمے ہیں۔(۱) حج پر جانے کے لئے اگر آپ کے پاس رقم ہو تو اپنی رقم خرچ کریں۔(۲)
- (۱) النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علٰی زوجھا مسلمۃ کانت أو کافرۃ إذا سلّمت نفسھا إلٰی منزلہ فعلیہ نفقتھا وکسوتھا وسکناھا۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۴۳۷، باب النفقۃ، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۲) وتجب علیھا النفقۃ والراحلۃ فی مالھا للمحرم لیحج بھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹)۔ وفی الدر المختار: مع وجوب النفقۃ لمحرمھا۔ وفی رد المحتار: أی فیشترط أن تکون قادرۃ علٰی نفقتھا ونفقتہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۴۶۴، طبع سعید)۔

