حجاورعمرہکیفرضیت
کاروبارکینیتسےحجکرنا
سوال:۔
ہر مسلمان پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔ موجودہ دور میں کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو تقریباً ہر سال حج پر جاتے ہیں اور صرف یہی نہیں کہ ہر سال حج پر جاتے ہیں بلکہ ان کا حج ایک قسم کا ’’کاروباری حج‘‘ ہوتا ہے، کیونکہ یہ لوگ یہاں سے مختلف دوائیں اور دیگر سامان اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور سعودی عرب میں منافع کے ساتھ وہ چیزیں فروخت کردیتے ہیں۔ اسی طرح حج سے واپسی پر یہ لوگ وہاں سے ٹیپ ریکارڈر، وی سی آر اور کپڑا وغیرہ کثیر تعداد میں لاکر یہاں فروخت کردیتے ہیں۔ اس طرح حج کا فریضہ بھی ادا ہوجاتا ہے اور کاروبار بھی اپنی جگہ چلتا رہتا ہے۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس ’’کاروباری حج‘‘ کی دینی حیثیت کیا ہے؟ کیا ہر سال خود حج پر جانے سے بہتر یہ نہ ہوگا کہ اپنے کسی ایسے غریب رشتہ دار کو اپنے خرچ پر حج کرادیا جائے جو حج کے اخراجات برداشت کرنے کی اِستطاعت نہیں رکھتا؟
جواب:۔
حج کے دوران کاروبار کی تو قرآنِ کریم نے اجازت دی ہے،(۱) لیکن سفرِ حج سے مقصود ہی کاروبار ہو تو ظاہر ہے کہ اس کو اپنی نیت کے مطابق بدلہ ملے گا۔(۲) رہا یہ کہ اپنی جگہ دُوسروں کو حج کرادیں، یہ اپنے حوصلہ اور ذوق کی بات ہے، اس کی فضیلت میں تو کوئی شبہ نہیں مگر ہم کسی کو اس کا حکم نہیں دے سکتے۔
- (۱) ﵟ لَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ أَن تَبۡتَغُواْ فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكُمۡۚ ﵞ البقرة ١٩٨۔ ویستحب ان یفرغ قلبہ من طلب التجارۃ فإن احتاج إلیھا ولم یکن لہ غنی عنھا فلا بأس بھا لٰـکن لَا یجعلھا مقصودہ الأکبر بل یجعلھا ضمنًا وتبعًا۔ (إرشاد الساری ص:۴)۔
- (۲) عن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إنما الأعمال بالنّیّات، وإنّما لِامریٍٔ ما نویٰ، فمن کانت ھجرتہ إلی اللہ ورسولہ فھجرتہ إلی اللہ ورسولہ، ومن کانت ھجرتہ إلٰی دنیا یصیبھا أو امرأۃ یتزوّجھا فھجرتہ إلٰی ما ھاجر إلیہ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۱، کتاب الْإیمان، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

