حجاورعمرہکیفرضیت
کرایہکامکان،مہرِمؤجلوالےپرحجکیفرضیت
سوال:۔
حج کے مسائل پر مبنی جو کتاب وزارتِ حج کی طرف سے موصول ہوئی اس میں لکھا ہے کہ جس کے پاس اپنی حاجت سے زیادہ مال ہو یعنی رہنے کا مکان، لباس، گھر کے اسباب کے سوا آمد ورفت کا اور اہل وعیال کا خرچ ہو اور یہ سرمایہ اس کے قرض کو منہا کرنے کے بعد ہو، خواہ وہ قرض مہرِ معجل ہو یا مہرِ مؤجل ہی کیوں نہ ہو، اس پر حج فرض ہے۔
الف:۔ سوال یہ ہے کہ اگر مکان کرایہ کا ہو تو اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟
ب:۔ علاوہ مہر کے کوئی قرض نہ ہو اور مہر اس قدر زیادہ ہو کہ اس کی ادائیگی ناممکن ہو، بیوی معاف نہ کرے تو وہ حج پر جائے یا نہیں؟
ج:۔ اگر بیوی مہر بلامعاف کئے مرگئی ہو تو اس پر بھی کیا حج فرض نہیں؟ اگر جائیداد اتنی ہو کہ اس کو فروخت کرکے مہر اَدا کیا جاسکتا ہے مگر وقت کم ہو جس کے سبب فوری فروخت ناممکن ہو تو وہ حج پر جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر چلا جائے تو اس کا حج ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
کرایہ کا مکان ہو تو کرایہ کی رقم حوائجِ اصلیہ میں شمار ہوگی، اتنی رقم منہا کرنے کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس پر حج فرض ہے یا نہیں؟(۱)
مہرِ معجل تو بالاتفاق مانعِ وجوب ہے، اور مہرِ مؤجل کے مانع ہونے میں اختلاف ہے، اکثر حضرات کا فتویٰ یہ ہے کہ یہ بھی مانع ہے۔(۲)
بیوی کا دَینِ مہر جب تک وصول نہ ہو، اس پر حج فرض نہیں۔(۳)
- (۱) وأما تفسیر الزاد والراحلۃ فھو أن یملک من المال مقدار ما یبلغہ إلٰی مکۃ ۔۔۔ فاضلًا عن مسکنہ وخادمہ وفرسہ وسلاحہ وثیابہ ۔۔۔إلخ۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۱۲۲، کتاب الزکاۃ، طبع سعید)۔
- (۲) وفی الدر المختار: فضلًا عما لَابد منہ کما مر فی الزکاۃ۔ وفی رد المحتار: قولہ کما مر فی الزکاۃ أی من بیان ما لَابد منہ من الحوائج الأصلیۃ کفرسہ وسلاحہ ۔۔۔ وقضاء دیونہ وأصدقتہ ولو مؤجلۃ کما فی اللباب وغیرہ والمراد قضاء دیون العباد۔ (رد المحتار، کتاب الحج ج:۲ ص:۴۶۱)۔ فارغ عن دین لہ مطالب من جھۃ العباد سواء کان ﷲ کزکاۃ ۔۔۔ ولو صداق زوجہ المؤجل۔ (الدر المختار، کتاب الزکاۃ ج:۲ ص:۲۶۰، ۲۶۱، طبع سعید)۔
- (۳) فی الدر المختار: لأن الدَّین لیس بمال بل وصف فی الذمۃ لَا یتصور قبضہ حقیقۃ۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۸۴۸)۔

