بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

محدود‌آمدنی‌میں‌لڑکیوں‌کی‌شادی‌سے‌قبل‌حج

سوال:۔

ایک شخص صاحبِ اِستطاعت ہے اور حج اس پر فرض ہے، لیکن موصوف کی اولاد ہے کہ غیرشادی شدہ ہے، جن میں دو لڑکیاں جوان ہیں، رقم اتنی ہے کہ اگر حج ادا کرے تو کسی ایک لڑکی کی شادی بھی ممکن نظر نہیں آتی، کیونکہ آج کل شادی بیاہ پر کم از کم تیس چالیس ہزار کا خرچہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں کوئی شخص جس کے یہ حالات ہوں کیا فرض ہوتا ہے، حج یا شادی؟

جواب:۔

فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر ایک شخص کے پاس اتنی رقم ہو کہ یا وہ اپنی شادی کرسکتا ہے یا حج کرسکتا ہے تو اگر حج کے ایام ہوں تو اس کے ذمہ حج فرض ہے۔(۱) اسی سے اپنے مسئلے کا جواب سمجھ لیجئے، اس سلسلے میں دیگر علمائے کرام سے بھی رُجوع کرلیجئے۔

  1. (۱) إذا وجد ما یحج بہ وقد قصد التزوّج یحج بہ ولَا یتزوّج، لأن الحج فریضۃ أوجبھا اللہ تعالٰی علٰی عبدہٖ کذا فی التبیین۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷، کتاب المناسک، طبع رشیدیہ کوئٹہ، ردّ المحتار ج:۲ ص:۴۶۲، کتاب الحج)۔