بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

پہلے‌بہن‌بھائیوں‌کی‌شادی‌کروں‌یا‌حج؟

سوال:۔

میں اپنے گھر کا سربراہ ہوں، میرے والد صاحب وفات پاچکے ہیں، میں شادی شدہ بھی ہوں اور میرے دو بچے بھی ہیں، میں اپنی والدہ صاحبہ کو اگلے سال حج کروانا چاہتا ہوں، جبکہ میری بہن جوان ہے جس کی عمر ۲۴سال ہے، اور دو بھائی بالترتیب ۲۷، ۳۰ سال کے ہیں، یہ تینوں ابھی تک کنوارے ہیں، ایک بھائی گھر میں ہے اور دُوسرا میرے ساتھ دُبئی میں کام کرتا ہے، ہماری اپنی دُکان ہے، میں آپ سے پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ پہلے امی جان کو حج کرواؤں یا بہن بھائیوں کی شادی کروں؟ کیا امی جان کو پہلے حج کرواؤں تو وہ حج قابلِ قبول ہوگا؟ کیونکہ میں ایک سال میں دونوں کام اِکٹھے نہیں کرسکتا، یا بھائیوں کی شادی کرسکتا ہوں یا حج کرواسکتا ہوں، اکثر لوگ کہتے ہیں کہ پہلے بہن بھائیوں کی شادیاں کرلو، ورنہ حج قبول نہیں ہوگا۔ امی جان کی عمر ۵۵سال ہے، آپ بتائیں کہ اس مسئلے کو حل کیسے کروں؟

جواب:۔

اگر آپ کی والدہ پر حج فرض نہیں، یعنی ان کی ذاتی ملکیت اتنی نہیں کہ ان پر حج فرض ہو، تو پہلے شادیوں کے قصے سے نمٹ لینا بہتر ہے، لیکن شادیاں سادگی سے کی جائیں، ان پر بے جا رقم برباد نہ کی جائے۔