بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

حجِ‌فرض‌میں‌جلدی‌کیجئے!

سوال:۔

میرے والد صاحب جن کی عمر تقریباً ۷۰ کے قریب ہے، حج پر جانے کی خواہش نہیں رکھتے ہیں، جبکہ ہماری اور والدہ صاحبہ کی خواہش ہے کہ وہ حج ادا کرلیں، والدہ آج سے تیرہ سال قبل ماموں کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کرچکی ہیں، والد صاحب کا موقف اس سلسلے میں یہ ہے کہ خدا کا بلاوا آئے گا تو وہ خود حج کروادے گا، اس کے علاوہ دُوسرے معاملوں میں مثلاً رشتوں وغیرہ کے سلسلے میں بھی والد صاحب کا یہ ہی کہنا ہے کہ اللہ خود کوئی اسباب پیدا کرے گا، انسان کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے، لہٰذا اِنسان کو سکون سے بیٹھ کر اس کی رحمت کا اِنتظار کرنا چاہئے۔

جبکہ ہم لوگ والد صاحب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پہلے انسان کو کوشش کرنی چاہئے پھر دُعا کرنی چاہئے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اِنتظار کرنا چاہئے، اور پھر یہ پوری اُمید رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہی کچھ اپنے بندے کے لئے مقرّر فرمائیں گے جو اس کے حق میں بہتر ہوگا۔

جواب:۔

جس شخص پر حج فرض ہو، اور اَدا نہ کرے اس کے بارے میں حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پروا نہیں کہ وہ یہودی مرے یا عیسائی ہوکر مرے۔(۱) اگر آپ کے والد صاحب پر حج فرض ہے تو ان کو فوراً اَدا کرنا چاہئے، اور اگر خود جانے کی طاقت نہیں رکھتے تو اپنی جگہ کسی کو حجِ بدل کے لئے بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے پیسہ عطا فرمایا ہے، اپنی رحمت سے حج پر جانے کے لئے سواری کا اِنتظام فرمایا ہے، اس کے بعد وہ کس رحمت کے اِنتظار میں ہیں۔۔۔؟

  1. (۱) عن علی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ملک زادًا وراحلۃ تبلغہ إلٰی بیت اللہ ولم یحجّ فلا علیہ أن یموت یھودیًّا أو نصرانیًّا وذٰلک ان اللہ یقول فی کتابہٖ ﵟ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ ﵞ(ترمذی، باب ما جاء فی التغلیظ فی ترک الحج ج:۱ ص:۱۰۰)۔