حجاورعمرہکیفرضیت
حجکیفرضیتاوراہلوعیالکیکفالت
سوال:۔
الف ملازمت سے ریٹائرڈ ہوا، دس ہزار روپے بقایاجات یک مشت گورنمنٹ نے دئیے، اب یہ رقم حج کرنے کے لئے اور اس عرصہ تک اس کے اہل و عیال کے خرچ کے لئے کافی ہوتی ہے، مگر جب حج سے واپس آنا ہوگا تو روزگار کے لئے الف کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا۔ کیا ایسی حالت میں الف پر حج فرض ہوگا یا نہیں؟
سوال:۔
۲: قاسم کی دُکان ہے اور اس میں آٹھ دس ہزار روپے کا سامان ہے، جس کی تجارت سے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتا ہے، اور اگر قاسم دُکان بیچ کر حج کرنے چلا جائے تو پیچھے بچوں کے لئے اسی رقم سے کھانے پینے کا بندوبست بھی ہوسکتا ہے۔ کیا ایسی صورت میں اس پر حج فرض ہوگا یا نہیں؟ اور اس کو حج کے لئے جانا چاہئے یا نہیں؟
جواب:۔
دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کہ حج سے واپسی پر اس کے پاس اتنی پونجی ہونی چاہئے کہ جس سے اس کے اہل و عیال کی بقدرِ ضرورت کفالت ہوسکے۔(۱)
مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں حج فرض نہیں ہوگا، بہتر ہے کہ آپ دُوسرے علمائے کرام سے بھی دریافت کرلیں۔
- (۱) (ومنھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ) بطریق الملک أو الْإجارۃ دون الْإعارۃ والْإباحۃ ۔۔۔ وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ وھو ما سوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ وأثاث بیتہ قدر ما یبلغہ إلٰی مکۃ ذاھبًا وجائیًا راکبًا لَا ماشیًا وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ ومرمۃ مسکنہ ونحوہ إلٰی وقت انصرافہ کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔ قال بعض العلماء إن کان الرجل تاجرًا یعیش بالتجارۃ فملک مالًا مقدار ما لو رفع منہ الزاد والراحلۃ لذھابہ وإیابہ ونفقۃ أولَادہ وعیالہ من وقت خروجہ إلٰی وقت رجوعہ ویبقی لہ بعد رجوعہ رأس مال التجارۃ التی کان یتجر بھا کان علیہ الحج وإلّا فلا ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۸، کتاب المناسک، ردّ المحتار ج:۲ ص:۴۶۲، کتاب الحج)۔

