بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

صرف‌امیر‌آدمی‌ہی‌حج‌کرکے‌جنت‌کا‌مستحق‌نہیں،‌بلکہ‌غریب‌بھی‌نیک‌اعمال‌کرکے‌اس‌کا‌مستحق‌ہوسکتا‌ہے

سوال:۔

حج کرکے صرف امیر آدمی ہی جنت خرید سکتا ہے، کہ اس کے پاس حج پر جانے کے لئے مناسب رقم ہے اور وہ ہزاروں لاکھوں نمازوں کا ثواب حاصل کرسکتا ہے، جبکہ غریب محروم ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل صرف امیروں پر ہے۔ آج کے زمانے میں کسی کا حج بھی قبول نہیں ہو رہا، کیونکہ میدانِ عرفات میں لاکھوں فرزندانِ توحید اعدائے اسلام (خاص طور پر اسرائیل، امریکہ، رُوس) کے نابود ہونے کے لئے دُعا بڑے خشوع و خضوع سے کرتے ہیں اور ان کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ دُنیا سے بُرائی ختم ہونے کی دُعا کرتے ہیں، لیکن بُرائیاں بڑھ رہی ہیں۔ گویا یہ ان دُعاؤں کے نامقبول ہونے کی علامات ہیں۔

جواب:۔

حج صرف صاحبِ اِستطاعت لوگوں پر فرض ہے۔(۱) مگر جنت صرف حج کرنے پر نہیں ملتی، بہت سے اعمال ایسے ہیں کہ غریب آدمی ان کے ذریعہ جنت کما سکتا ہے۔ حدیث میں تو یہ آتا ہے کہ فقراء و مہاجرین، اُمراء سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے۔(۲) حج کس کا قبول ہوتا ہے اور کس کا نہیں؟ یہ فیصلہ تو قبول کرنے والا ہی کرسکتا ہے، یہ کام میرے آپ کے کرنے کا نہیں۔ نہ ہم کسی کے بارے میں یہ کہنے کے مجاز ہیں کہ اس کی فلاں عبادت قبول ہوئی یا نہیں، البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے شرائط کی پابندی کے ساتھ حج کے ارکان صحیح طور پر اَدا کئے اس کا حج ہوگیا۔(۳) رہا دُعاؤں کا قبول ہونا یا نہ ہونا، یہ علامت حج کے قبول ہونے یا نہ ہونے کی نہیں۔ بعض اوقات نیک آدمی کی دُعا بظاہر قبول نہیں ہوتی اور بُرے آدمی کی دُعا ظاہر میں قبول ہوجاتی ہے، اس کی حکمتیں اور مصلحتیں بھی اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بُرائی اور شر کے غلبے کی وجہ سے نیک لوگوں کی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ نیک آدمی عام لوگوں کے لئے دُعا کرے گا، حق تعالیٰ شانہ فرمائیں گے کہ: ’’تو اپنے لئے جو کچھ مانگنا چاہتا ہے مانگ، میں تجھ کو عطا کروں گا، لیکن عام لوگوں کے لئے نہیں، کیونکہ انہوں نے مجھے ناراض کرلیا ہے‘‘ (کتاب الرقائق ص:۱۵۵، ۳۸۴)۔

اور یہ مضمون بھی احادیث میں آتا ہے کہ: ’’تم لوگ نیکی کا حکم کرو اور بُرائی کو روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو عذابِ عام کی لپیٹ میں لے لیں، پھر تم دُعائیں کرو تو تمہاری دُعائیں بھی نہ سنی جائیں‘‘ (ترمذی ج:۲ ص: ۳۹)۔(۴)

اس وقت اُمت میں گناہوں کی کھلے بندوں اشاعت ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بہت کم بندے رہ گئے ہیں جو گناہوں پر روک ٹوک کرتے ہوں۔ اس لئے اگر اس زمانے میں نیک لوگوں کی دُعائیں بھی اُمت کے حق میں قبول نہ ہوں تو اس میں قصور ان نیک لوگوں کا یا ان کی دُعاؤں کا نہیں، بلکہ ہماری شامتِ اعمال کا قصور ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائیں۔

  1. (۱)ﵟ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ ﵞ آل عمران ٩٧
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یدخل الفقراء الجنۃ قبل الأغنیاء بخمس مأۃ عام نصف یوم۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۴۷، باب فضل الفقراء وما کان من عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم، طبع قدیمی)۔
  3. (۳) لِامکان قبولہ حیث وجدت شرائطہ وأرکانہ۔ (إرشاد الساری ص:۳۲۴، طبع دار الفکر بیروت)۔
  4. (۴) عن حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: والذی نفسی بیدہ! لتأمرنّ بالمعروف ولتنھونّ عن المنکر أو لیوشکنّ اللہ أن یبعث علیکم عذابًا منہ فتدعونہ فلا یستجیب لکم۔ (ترمذی ج:۲ ص:۳۹، أبواب الفتن، باب ما جاء فی الأمر بالمعروف والنھی عن المنکر، طبع کتب خانہ رشیدیہ دھلی)۔