بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

کیا‌غریب‌لوگ‌حج‌اور‌زکوٰۃ‌کے‌ثواب‌سے‌محروم‌رہیں‌گے؟

سوال:۔

اسلام کے پانچ ارکان میں سے دو اَرکان زکوٰۃ اور حج غریبوں پر فرض نہیں ہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ غریب شخص ان دونوں کے بے اِنتہا ثواب اور فضیلت سے محروم رہتا ہے، اسلام کا نظامِ اِنصاف کیا اس کی وجہ سے متأثر نہیں ہوتا؟

جواب:۔

اللہ تعالیٰ نے ثواب اور فضیلت حاصل کرنے کی بے شمار صورتیں رکھی ہیں، اور ان صورتوں کو اپنے بندوں پر تقسیم کردیا ہے، کسی کے لئے کوئی صورت تجویز فرمادی، اور کسی کے لئے کوئی، ساری چیزوں کا بیک وقت ایک آدمی میں جمع ہوجانا عادۃً دُشوار ہے۔ جب یہ مقدمہ سمجھ میں آگیا تو اگر مال داروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مالی عبادات کی صورتیں پیدا فرمادی ہیں جن سے نادار لوگ محروم ہیں، تو ناداروں کے لئے وہ صورتیں پیدا فرمادی ہیں جن سے مال دار محروم ہیں، مثلاً ایک شخص مال دار ہے، اور وہ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے، جتنا ثواب اس شخص کو ملے گا، اتنا ہی ثواب اس نادار کو بھی ملے گا جو یہ نیت رکھتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس شخص کی طرح نیک کاموں میں خرچ کروں۔ دیکھئے! ایک شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے قربِ اِلٰہی کا راستہ مال کا خرچ کرنا ٹھہرادیا، اور دُوسرے کے لئے صرف اس کی نیت کرلینا۔(۱)

  1. (۱) عن أبی کبشۃ الأنماریّ رضی اللہ عنہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ۔۔۔ عبد رزقہ اللہ مالًا وعلمًا فھو یتقی فیہ ربہ ویصل رحمہ ویعمل ﷲ منہ بحقہ فھٰذا بأفضل المنازل، وعبد رزقہ اللہ علمًا ولم یرزقہ مالًا فھو صادق النیّۃ یقول: لو أنّ لی مالًا لعملت بعمل فلان فأجرھما سواء ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ، باب إستحباب المال والعمر للطاعۃ ص:۴۵۱، طبع قدیمی)۔