بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

کعبے‌پر‌پہلی‌نظر‌پڑنے‌سے‌کیا‌مراد‌ہے؟‌کیا‌اس‌وقت‌دُعا‌ضرور‌قبول‌ہوتی‌ہے؟

سوال:۔

پہلی نظر کعبہ شریف پر پڑتے ہی جو دُعا مانگی جائے قبول ہوتی ہے، پلک جھپکنے پر پہلی نظر ختم ہوجاتی ہے۔ (الف)پہلی نظر سے کیا مراد ہے؟ (ب)یہ موقع زندگی میں صرف ایک بار آتا ہے یا بار بار؟ مثلاً دوبارہ حج کو گیا یا منیٰ سے طوافِ زیارت کو آیا تب نظر پڑی، یا پانچ وقت نماز کو حرم شریف میں داخل ہوا پہلی نظر پڑی، وضاحت فرمادیجئے نوازش ہوگی۔

جواب:۔

پہلی نظر سے مراد یہ ہے کہ جونہی بیت اللہ پر نظر پڑے دُعا کرے۔(۱)

اس کو عمر میں پہلی بار پر کیوں بند رکھا جائے؟ جب بھی پہلی نظر بیت اللہ پر پڑے دُعا کی جائے اور قبولیت کا یقین رکھا جائے۔

  1. (۱) فإذا دخل مکۃ ووقع بصرہٗ علی الکعبۃ ووصل المسجد، استحب لہٗ أن یرفع یدیہ ویدعو، فقد جاء أنّہ یستجاب دعاء المسلم عند رُؤیۃ الکعبۃ، ویقول اللّٰھم زد ھٰذا البیت تشریفًا وتعظیمًا وتکریمًا ۔۔۔إلخ۔ (الأذکار النوویّۃ ص:۱۶۵)۔