حجوعمرہکیفضیلت
مکہوالوںکےلئےطوافافضلہےیاعمرہ؟
سوال:۔
مکۃ المکرمہ میں زیادہ طواف کرنا افضل ہے یا عمرہ جو کہ مسجدِ عائشہؓ سے اِحرام باندھ کر کیا جاتا ہے؟ کیونکہ ہمارے اِمام کا کہنا ہے کہ طواف مکہ مکرّمہ میں سب سے زیادہ افضل ہے، اور دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن میں بیت اللہ کے طواف کا حکم ہے نہ کہ عمرہ کا۔ اس لئے مقیمِ مکہ مکرّمہ کے لئے طواف افضل ہے عمرہ سے۔ اور ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مدینہ منوّرہ سے عمرہ کا اِحرام باندھ کر ضرور آنا چاہئے۔ پوچھنا ہے کہ کیا یہ باتیں اِمام کی ٹھیک ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
زیادہ طواف کرنا افضل ہے، مگر شرط یہ ہے کہ عمرہ کرنے پر جتنا وقت خرچ ہوتا ہے اتنا وقت یا اس سے زیادہ طواف پر خرچ کرے، ورنہ عمرہ کی جگہ ایک دو طواف کرلینے کو افضل نہیں کہا جاسکتا۔(۱)
جو لوگ مدینہ منوّرہ سے مکہ مکرّمہ جانے کا قصد رکھتے ہیں ان کو ذوالحلیفہ سے (جو مدینہ شریف کی میقات ہے) اِحرام باندھنا لازم ہے اور ان کا اِحرام کے بغیر میقات سے گزرنا جائز نہیں،(۲) اور اگر مدینہ منوّرہ سے مکہ مکرّمہ جانے کا قصد نہیں بلکہ جدہ جانا چاہتے ہیں تو ان کے اِحرام باندھنے کا سوال ہی نہیں۔(۳)
- (۱) ونظیرہ ما أجاب بہ العلّامۃ القاضی إبراھیم بن ظھیرۃ المکی حیث سئل ھل الأفضل الطواف أو العمرۃ من أن الأرجح تفضیل الطواف علی العمرۃ إذا شغل بہ مقدار زمن العمرۃ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۵۰۲، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) المواقیت التی لَا یجوز أن یجاوزھا الْإنسان إلّا محرمًا خمسۃ لأھل المدینۃ ذُوالحُلَیفۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۳۴، کتاب الحج، طبع شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۳) ولو جاوز المیقات ویرید بستان بنی عامر دون مکۃ فلا شیء علیہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۳، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

