بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

عمرے‌کی‌ادائیگی‌کے‌تقاضے

سوال:۔

ہمارے گھر والے ہر سال اللہ کے فضل وکرم سے رمضان المبارک میں عمرے پر جاتے ہیں، اور اکثر شام پانچ بجے کی فلائٹ ہوتی ہے، اس سفر کی بنا پر اس دِن کا روزہ فرض گھر والے نہیں رکھتے، اور کہتے ہیں کہ سفر میں روزہ نہیں ہوتا۔ سفر تو شام سے ہوتا ہے اور روزہ صبح سے نہیں رکھا جاتا۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا یہ عمل ان کا کہاں تک دُرست ہے؟ کیا ان پر روزے کی قضا ہوگی یا نہیں؟ یہ بھی بتلائیں کہ سفر میں جو روزہ معاف ہے وہ کونسا سفر ہے؟ کیونکہ ہوائی جہاز کا سفر تو مشقت سے بالکل خالی ہوتا ہے۔

جواب:۔

جو شخص صبحِ صادق سے پہلے سفر کی حالت میں ہے اس کو روزہ نہ رکھنے کی رُخصت ہے، لیکن جس شخص کا سفر بعد میں شروع ہونے والا ہے، اس پر روزہ رکھنا فرض ہے، اور چھوڑنا حرام ہے۔(۱) عجیب بات ہے کہ آپ کے گھر والے نفل کی خاطر فرض کو چھوڑتے ہیں، حرام کا اِرتکاب کرتے ہیں، اور پھر ۔۔۔چشمِ بددُور۔۔۔! حج وعمرہ کے شوقین بھی کہلاتے ہیں۔ جتنے روزے آپ کے گھر والوں نے چھوڑے ہیں، ان کی قضا لازم ہے۔ روزہ نہ رکھنے کی رُخصت ہر مسافر کے لئے ہے، لیکن جس سفر میں مشقت نہ ہو اس میں روزہ رکھنا بہتر ہے، ورنہ بعد میں قضا کرنا ہوگی۔(۲)

  1. (۱) بخلاف الیوم الذی سافر فیہ لأنہ کان مقیمًا فی أوّل الیوم فدخل تحت خطاب المقیمین فی ذٰلک الیوم فلزمہ إتمامہ حتمًا۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۹۵)۔ فلو سافر نھارًا لَا یباح لہ الفطر فی ذٰلک الیوم۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۰۶)۔
  2. (۲) ولٰـکن الصوم أفضل إن لم یضرہ۔ (حاشیۃ ردّ المحتار ج:۲ ص:۴۲۱، کتاب الحج)۔