بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

کیا‌نماز‌کا‌اِہتمام‌نہ‌کرنے‌والے‌کے‌عمرے‌میں‌کوئی‌نقص‌ہوتا‌ہے؟

سوال:۔

ہمارے گھر والے سال میں ایک دفعہ اور بعض دفعہ دو مرتبہ عمرے کی سعادت حاصل کرتے ہیں، لیکن یہاں آکر نماز کا اِہتمام نہیں کرتے اور فجر کا تو ایسا حال معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ذمے فرض ہی نہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان کے نماز کا اِہتمام نہ کرنے کی وجہ سے عمرے میں کوئی نقص تو نہیں آتا؟ اگر آتا ہے تو اس کا ضمان کیا ہے اور کیا یہ عمرہ قبول ہوگا یا نہیں؟

جواب:۔

نماز فرض ہے،(۱) اور عمرہ سنت ہے،(۲) جو شخص فرض کا تارک ہو، اور اس کی کوئی پروا نہ کرتا ہو، اُس کو ایک سنت کے ادا کرنے سے کیا نفع ہوگا۔۔۔؟

  1. (۱) عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خمس صلوات افترضھن اللہ تعالٰی، من أحسن وضوئھنّ وصلّاھنّ لوقتھنّ وأتم رکوعھنّ وخشوعھنّ کان لہ علی اللہ عھد أن یغفر لہ، ومن لم یفعلہ فلیس علی اللہ عھد إن شاء غفر لہ وإن شاء عذّبہ۔ رواہ أحمد وأبوداوٗد وروی مالک والنسائی وغیرہ۔ (مشکوٰۃ ص:۵۸ طبع قدیمی)۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: الصلوات الخمس والجمعۃ إلی الجمعۃ کفّارات لما بینھُنّ ما لم یعش الکبائر۔ (ترمذی، باب فی فضل صلوات الخمس ج:۱ ص:۳۰)۔
  2. (۲) عن جابر رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سُئل عن العمرۃ أواجبۃ ھی؟ قال: لَا، وان یعتمروا ھو أفضل۔ (ترمذی ج:۱ ص:۱۱۲، أبواب الحج، طبع دھلی)، العمرۃ فی العمر سنۃ مؤکدۃ ۔۔۔إلخ۔ (ردّ المحتار ج:۲ ص:۴۷۲)۔