حجوعمرہکیفضیلت
حجوعمرہجیسےمقدساعمالکوگناہوںسےپاکرکھناچاہئے
سوال:۔
یہاں سعودیہ میں ہمارے گھروں میں وی سی آر پر مخرّبِ اخلاق انڈین فلمیں بھی دیکھی جاتی ہیں اور ہر ماہ باقاعدگی سے عمرہ اور مسجدِ نبوی میں حاضری بھی دی جاتی ہے۔ کیا اس سے عمرہ و مسجدِ نبوی کی حاضری کی افادیت ختم نہیں ہوجاتی؟ لوگ عمرہ ثواب کی نیت سے اور مسجدِ نبوی میں بھی حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کی غرض سے جاتے ہیں، فلمیں دیکھنا بُرا بھی نہیں سمجھتے، عام خیال ہے کہ وطن سے دُوری کی وجہ سے وقت کاٹنے کو دیکھتے ہیں اور یہاں تفریح کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔
جواب:۔
عمرہ اور مسجدِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) کی حاضری میں بھی لوگ اتنی غلطیاں کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ! دین کے مسائل نہ کسی سے پوچھتے ہیں، نہ اس کی ضرورت سمجھتے ہیں۔(۱) جو شخص ٹی وی جیسی حرام چیزوں سے پرہیز نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کو اس کے حج و عمرہ کی کیا ضرورت ہے؟(۲) ایک عارف کا قول ہے:
بطوافِ کعبہ رفتم زحرم ندا برآمد
کہ بروں درچہ کردی کہ درون خانہ آئی
ترجمہ:۔ ’’میں طوافِ کعبہ کو گیا تو حرم سے ندا آئی کہ: تو نے باہر کیا کیا ہے کہ دروازے کے اندر آتا ہے۔‘‘
لوگ خوب داڑھی منڈاکر روضۂ اطہر پر جاتے ہیں اور ان کو ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر شکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُشمنوں جیسی بناتے ہیں۔ اس تحریر سے یہ مقصود نہیں کہ لوگوں کو حج و عمرہ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان مقدس اعمال کو گناہوں اور غلطیوں سے پاک رکھنا چاہئے۔ ایسے حج و عمرہ ہی پر پورا ثواب مرتب ہوتا ہے۔(۳)
- (۱) ولیتعلم ما یحتاج إلیہ فی سفرہ من أمر الصلاۃ وکذٰلک یتعلم کیفیۃ الحج وصفۃ المناسک۔ (إرشاد الساری ص:۴)۔
- (۲) لأنہ مشروط بعدم وجود الفسق سابقًا ولَاحقًا وحالًا ۔۔۔ ولَا شک ان المصر علی المعصیۃ فاسق وصاحب کبیرۃ فلا یکون داخلا فی الجزاء علی أداء الحجۃ۔ (إرشاد الساری ص:۳۲۳، باب المتفرقات، طبع دار الفکر)۔
- (۳) لأنہ مشروط بعدم وجود الفسق سابقًا ولَاحقًا وحالًا ۔۔۔ ولَا شک ان المصر علی المعصیۃ فاسق وصاحب کبیرۃ فلا یکون داخلا فی الجزاء علی أداء الحجۃ۔ (إرشاد الساری ص:۳۲۳، باب المتفرقات، طبع دار الفکر)۔

