بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

نفل‌حج‌زیادہ‌ضروری‌ہے‌یا‌غریبوں‌کی‌استعانت؟

سوال:۔

حج، اسلام کا ایک اہم رُکن ہے۔ دورانِ حج اسلامی یکجہتی اور اجتماعیت کا عظیم الشان مظاہرہ ہوتا ہے جس کی افادیت کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ مگر جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ آج کل نفل حج جائز ہے یا نہیں؟ خاص طور پر ان ممالک کے باشندوں کے لئے جہاں سے حج کے لئے جانے پر ہزارہا روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ جبکہ ایک مولانا صاحب نے روزنامہ ’’جنگ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’کمیونزم‘‘ اور ’’سوشلزم‘‘ یعنی لادینیت کے حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کی روٹی کا مسئلہ حل کردیا جائے۔ پاکستان اور بہت سے مسلم ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان محض پیٹ کی مجبوری کی خاطر عیسائیت اختیار کر رہے ہیں، پاکستان کے غریب مسلمانوں میں اگر سوشلزم سے کوئی ہمدردی ہے تو محض پیٹ کی خاطر، ورنہ یہ لوگ بھی ہماری طرح مسلمان ہیں اور ضرورت پڑنے پر اسلام کے لئے جان بھی دینے کو تیار ہیں۔ نفل حج پر خرچ کی جانے والی رقم اگر پاکستان کے غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کردی جائے تو میرا خیال ہے کہ ملک سے غربت کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوجائے گا اور اسلامی نظام کی راہ میں حائل بہت سی رُکاوٹیں خودبخود ختم ہوجائیں گی۔ پچھلے سال اس سلسلے میں، میں نے دُوسرے مولانا صاحب کو لکھا تھا تو انہوں نے میری تائید میں جواب دیا تھا کہ: ’’موجودہ حالات میں نفل حج کے لئے جانا گناہ ہے، اس رقم کو ملکی یتیموں اور محتاجوں میں تقسیم کرنے سے زیادہ ثواب ملے گا۔‘‘ آپ سے گزارش ہے کہ اس پر مزید وضاحت فرمائیں اور پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کو اس حقیقت سے باخبر فرمائیں، تاکہ اسلامی نظام کی راہ آسان سے آسان تر ہوجائے۔

جواب:۔

ایک مولانا کے ’’زور دار فتویٰ‘‘ اور دُوسرے مولانا کی ’’تائید و تصدیق‘‘ کے بعد ہمارے لکھنے کو کیا باقی رہ جاتا ہے۔۔۔! مگر ناقص خیال یہ ہے کہ نفل حج کو تو حرام نہ کہا جائے،(۱) البتہ زکوٰۃ ہی اگر مال داروں سے پوری طرح وصول کی جائے اور مستحقین پر اس کی تقسیم کا صحیح انتظام کردیا جائے تو غربت کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ مگر کرے کون۔۔۔؟

  1. (۱) ذکر فی القنیۃ أن أباحنیفۃ کان یقول الصدقۃ أفضل من حج التطوّع فلما حج وعرف مشاقہ فقال: الحج أفضل (وقیل الحج أفضل) وھو روایۃ عن أبی حنیفۃ ان الحج تطوّعًا أفضل من الصدقۃ والصدقۃ أفضل من العتق والوصیۃ بالصدقۃ أفضل ثم بالحج ثم بالعتق وفی النوازل أن الحج أفضل من الصدقۃ عند الْإمام وعند محمد الصدقۃ أفضل منہ انتھی۔ وتبین بما ذکرنا أن ما عند المصنف عنہ بقیل ھو الأولٰی کما لَا یخفی۔ (إرشاد الساری ص:۳۱۶، طبع دار الفکر بیروت)۔