بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

متعدّد‌مرتبہ‌’’عمرہ‘‘‌کی‌ادائیگی‌پر‌اِعتراض‌کا‌جواب

سوال:۔

ہم میں کچھ صاحبِ ثروَت حضرات کا سال میں ایک دو عمرے کرنے کا معمول ہے۔ یہ حقیقت ہر ذی شعور پاکستانی کے علم میں ہے کہ سفرِ عمرہ کے لئے زَرِمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ زَرِ مبادلہ حکومتِ پاکستان مختلف اِداروں سے سود پر حاصل کرتی ہے۔ میری معلومات کے مطابق فرض حج کے بعد جتنے بھی حج یا عمرے کئے جائیں ان کا شمار نفلی عبادات میں ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں حصولِ زَرِمبادلہ کی جو صورتِ حال ہے اس کے پیشِ نظر کیا نفلی عمرہ بار بار جائز ہے؟

جواب:۔

سرکاری افسران اور اَربابِ حل وعقد اگر تمام مصارف بند کردیں، غیرملکی دورے نہ کیا کریں اور ایک ایک پیسے کی بچت کریں تو میں بھی لوگوں کو مشورہ دُوں گا کہ وہ عمرے یا نفلی حج پر پیسہ خرچ نہ کیا کریں۔ لیکن جب یہ لوگ اللّے تللّے میں زَرِمبادلہ خرچ کرتے ہیں تو خدا اور رسول ہی کے ساتھ کیا دُشمنی ہے کہ ان کے لئے خرچ نہ کیا جائے۔۔۔؟(۱)

  1. (۱) العمرۃ فی العمر مرّۃ سُنَّۃ مؤکَّدۃ ۔۔۔ فلا یکرہ الْإکثار منھا۔ (حاشیۃ ردّ المحتار ج:۲ ص:۴۷۲، مطلب أحکام العمرۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔ یجوز تکرارھا فی السَّنَۃ الواحدۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۳۷، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔