بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌فضیلت

حجِ‌مقبول‌کی‌پہچان

سوال:۔

اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ: ’’ہم نے حج تو کرلیا ہے مگر معلوم نہیں خدا نے قبول کیا کہ نہیں؟‘‘ میں نے یہ سنا ہے کہ اگر کوئی مسلمان حج کرکے واپس آئے اور واپس آنے کے بعد پھر سے بُرائی کی طرف مائل ہوجائے یعنی جھوٹ، چوری، غیبت، دِل دُکھانا وغیرہ شروع کردے تو یہ ان لوگوں کی نشانی ہوتی ہے جن کی عبادت خدا نے قبول نہیں کی ہوتی، کیونکہ انسان جب حج کرکے آتا ہے تو خدا اس کا دِل موم کی طرح نرم کرتا ہے اور سوائے نیکی کے وہ اور کوئی کام نہیں کرتا۔ یہ کہاں تک دُرست ہے؟

جواب:۔

حجِ مقبول وہی ہے جس سے زندگی کی لائن بدل جائے، آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا اہتمام ہو اور طاعات کی پابندی کی جائے۔ حج کے بعد جس شخص کی زندگی میں خوشگوار انقلاب نہیں آتا اس کا معاملہ مشکوک ہے۔(۱)

  1. (۱) أن الحج المبرور علٰی ما نقلہ العسقلانی عن ابن خالویہ المقبول وھو کما تری أمرہ مجھول وقال غیرہ ھو الذی لَا یخالطہ شیء من المعاصی ورجحہ النووی وھٰذا ھو الأقرب وإلٰی قواعد الفقہ أنسب لٰـکن مع ھٰذا لَا یخلو عن نوع من الْإبھام لعدم جزم أحد بخلوہ عن نوع من الآثام، وقیل الذی لَا ریاء فیہ ولَا سمعۃ ولَا رفث ولَا فسوق وھٰذا داخل فیما قبلہ، وقیل الذی لَا معصیۃ بعدہ، وقال الحسن البصری: الحج المبرور أن یرجع زاھدًا فی الدنیا راغبًا فی العقبٰی۔ (إرشاد الساری ص:۳۲۲، باب المتفرقات، طبع دار الفکر، بیروت)۔