حجوعمرہکیفضیلت
حجسےگناہوںکیمعافیاورنیکیوںکاباقیرہنا
سوال:۔
سنا ہے کہ حج ادا کرنے کے بعد وہ انسان جس کا حج قبول ہوجائے وہ گناہ سے پاک ہوجاتا ہے جیسے کہ پیدا ہونے کے بعد کوئی بچہ، کیا یہ بات دُرست ہے؟ اگر یہ بات دُرست ہے تو کیا اس شخص نے جو اَب تک نیکیاں کیں وہ بھی ختم ہوجائیں گی؟
جواب:۔
گناہوں کے معاف ہونے سے نیکیوں کا ختم ہونا کیسے سمجھ لیا گیا ہے؟ حج بہت بڑی عبادت ہے جس سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، مگر عبادت سے نیکیاں تو ضائع نہیں ہوا کرتیں! اور یہ جو فرمایا کہ: ’’گویا وہ آج اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے‘‘(۱) یہ گناہوں سے پاک ہونے کو سمجھانے کے لئے ہے، کہ جس طرح نومولود بچہ گناہوں سے پاک صاف ہوتا ہے، اسی طرح ’’حجِ مبرور‘‘ کے بعد آدمی گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔(۲)
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من حج ﷲ فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم وَلَدتہ اُمّہ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۲۱، کتاب المناسک، الفصل الأوّل، طبع قدیمی)۔
- (۲) قال الطیبی: ای مشابھًا فی البرائۃ عن الذنوب بنفسہ فی یوم ولدتہ اُمّہ فیہ۔ (مرقات ج:۳ ص:۱۶۸ طبع بمبئی)۔

