بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ،‌فقراء‌وغیرہ‌سے‌متعلق‌مسائل

رشوت‌کی‌رقم‌اور‌زمین‌کی‌پیداوار‌کی‌رقم‌والے‌کا‌صدقہ‌وخیرات‌کرنا

سوال:۔

زید نے اپنی زمین جس میں زید فصل کاشت کرتا ہے اپنے قریبی رشتہ دار کو کرایہ پر دِی۔ زید کا وہ رشتہ دار پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز ہے۔ اس کے پاس کثرت سے رشوت کا پیسہ آتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس اپنی کاشت کے لئے زمین بھی ہے جو تقریباً ۲۰۰ ایکڑ ہے جو اس کو اس کے والد نے اپنی زندگی میں ہی الگ حصے کے طور پر دِی ہے، اور اس نے اپنی رشوت کی رقم سے نہیں خریدی۔ اب غالب گمان کے مطابق اس کے پاس یعنی زید کے رشتہ دار کے پاس مالِ حرام زیادہ ہے بہ نسبت حلال کے، کیونکہ رشوت بہت زیادہ ملتی ہے۔ اب مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا زید کو جو کرایہ کی رقم اپنی حلال زمین کے عوض میں ملی ہے وہ حلال ہے یا حرام ہے؟ اس کو زید اپنے ذاتی اِستعمال میں لاسکتا ہے یا نہیں؟ اور کسی دِینی مصرف یعنی مسجد میں چندہ یا مدرسے میں دے سکتا ہے یا نہیں؟ اور زید کو اس کا پورا علم تھا کہ اس کے رشتہ دار کے پاس مالِ حرام کثرت سے موجود ہے، تو زید کا یہ عمل صحیح ہے یا غلط؟

جواب:۔

جس شخص کی آمدنی حلال وحرام سے مخلوط ہو، اس میں غالب کا اِعتبار ہے۔ حلال غالب ہو تو اس کے گھر کا کھانا جائز ہے، ورنہ نہیں۔ یہی حکم اس کے ساتھ معاملے کا بھی سمجھنا چاہئے۔ بعض لوگ اپنی حلال آمدنی الگ رکھتے ہیں، اس لئے اگر زید اپنی زمین اس کو کرائے پر دیتا ہے تو اس سے کہہ دے کہ مجھے یہ کرایہ حلال آمدنی سے دیا جائے، اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کو نہ دِی جائے۔ بہرحال اگر حرام آمدنی سے کرایہ ادا کیا گیا ہے تو زید کو چاہئے کہ اس سے صدقہ وخیرات وغیرہ نہ کرے، بلکہ کسی غیرمسلم سے قرض لے کر اس میں خرچ کرے، اور یہ رقم غیرمسلم کو اس کے قرض میں دیدے۔(۱)

  1. (۱) اھدی إلٰی رجل شیئًا أو أضافہ إن کان غالب مالہ من الحلال فلا بأس إلّا أن یعلم بأنہ حرام فإن کان الغالب ھو الحرام ینبغی لَا یقبل الھدیۃ ولَا یأکل الطعام إلّا أن یخبرہ بأنہ حلال ورثتہ أو استقرضتہ من رجل کذا فی الینابیع۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۲، کتاب الکراھیۃ، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات)۔