صدقہ،فقراءوغیرہسےمتعلقمسائل
اپنیزندگیمیںہیصدقۂجاریہکااِہتمامکرنا
سوال:۔
اگر کوئی شخص ذخیرۂ آخرت کے خیال سے کوئی نیک کام کر جائے، مثلاً: کوئی مسجد بنوادی، کسی مدرسے میں حصہ ڈال دیا، سپارے مسجد میں رکھوادئیے۔ اسی طرح کسی عزیز یا غریب کی اعانت کردی، تو کیا اس کے لئے جائز ہے؟ کیونکہ وارثوں سے تو توقع نہیں کہ اس کے ترکے میں سے کچھ صدقۂ جاریہ کے لئے خرچ کریں گے۔
جواب:۔
یہ نہ صرف جائز ہے، بلکہ بہتر اور افضل ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں اپنے لئے ذخیرۂ آخرت جمع کرنے کا اِہتمام کرے۔(۱)
- (۱) حدثنا أبو ھریرۃ قال: جاء رجل إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ ! أی صدقۃ أعظم أجرًا؟ قال: أن تصدق وأنت صحیح شحیح تخشَی الفقر وتأمل الغنٰی ولَا تمھل حتّٰی إذا بلغت الحلقوم ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۹۱)۔

