بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ،‌فقراء‌وغیرہ‌سے‌متعلق‌مسائل

اللہ‌تعالیٰ‌کے‌نام‌کی‌بجائے‌سر‌کا‌صدقہ‌دینا

سوال:۔

ایک عامل صاحب نے کہا ہے کہ جو لوگ مصیبتوں میں مبتلا ہوں، ان کو چاہئے کہ بجائے کسی نام کی طرف منسوب کرنے کے صرف اپنے سر کا صدقہ کریں، صدقہ ادا کرنے سے مصائب رفع ہوجاتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ صدقہ صرف اپنے سر کا ہوتا ہے۔ مگر ہم نے اب تک جب بھی صدقہ دیا تو اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کرکے دیا کہ اے اللہ! یہ خیرات آپ کے نام کی ہے، آپ ہمارے حال پر رحم فرمائیں۔

حضرت! کیا عامل کا کہنا ٹھیک ہے یا غلط؟ صحیح طریقہ کیا ہے؟ اور اگر غلط ہے جیسا کہ ہمارا گمان ہے تو اس کی وضاحت فرمادیں، عین نوازش ہوگی۔

جواب:۔

اپنے سر کے صدقے کا مطلب اللہ تعالیٰ کے نام پر ہوتا ہے، اس لئے صحیح ہے۔ اپنی طرف سے صدقہ کرنا، یہ صدقہ بھی فی سبیل اللہ ہوتا ہے،(۱) عامل کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ صدقے سے مصیبت ٹلتی ہے۔(۲)

  1. (۱) وروی عن میمونۃ بنت سعد أنھا قالت: یا رسول اللہ ! افتنا عن الصدقۃ؟ فقال: انھا حجاب من النار لمن احتسبھا یبتغی بھا وجہ اللہ عزّو جلّ۔ رواہ الطبرانی۔ (الترغیب والترھیب ج: ۲ ص:۱۷، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔
  2. (۲) وروی عن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصدقۃ تسد سبعین بابًا من السوء۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۱۹، طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔