صدقہ،فقراءوغیرہسےمتعلقمسائل
پیشہورسائلکودینا
سوال:۔
میں نے علمائے کرام سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کو واپس نہیں لوٹایا، لیکن مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصنیف ’’دِین ودُنیا‘‘ میں پیشہ ور سائل کی اعانت پر تنبیہ آئی ہے، اس صورت میں مجھے سائل کی اعانت کرنی چاہئے یا نہیں؟
جواب:۔
پیشہ ور سائل کے بارے میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ لکھا ہے، وہ صحیح ہے، اس لئے اگر واقعی کوئی حاجت مند ہو تو اس کی اعانت ضرور کرنی چاہئے، لیکن اگر حالات سے محسوس ہو کہ یہ شخص پیشہ ور سائل ہے تو اس کی اعانت نہ کی جائے۔(۱)
- (۱) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوْت (من لہ قوْت یومہ) بالفعل أو بالقوّۃ کالصحیح المکتسب ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: ویأثم معطیہ ۔۔۔إلخ۔ قال الأکمل فی شرح المشارق: وأما الدفع إلٰی مثل ھٰذا السائل عالمًا بحالہ فحکمہ فی القیاس الْإثم بہ لأنہ إعانۃ علی الحرام لٰـکنہ یجعل ھبۃ وبالھبۃ للغنی أو لمن لَا یکون محتاجًا إلیہ لَا یکون إثما، أی لأن الصدقۃ علی الغنی ھبۃ کما أن الھبۃ للفقیر صدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۵، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔

