بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ،‌فقراء‌وغیرہ‌سے‌متعلق‌مسائل

پیشہ‌ور‌گداگروں‌کا‌مستحق‌ہونا‌کیسے‌معلوم‌ہوگا؟

سوال:۔

اکثر اوقات خاص طور پر جمعرات جمعہ وغیرہ کو گلی میں فقیر وغیرہ آتے ہیں، جو کہ مختلف پریشانیاں بیان کرکے بھیک یا اِمداد چاہتے ہیں، اور بعض لوگوں سے سنا ہے کہ یہ فقیر تو ایسے ہی پیشے کے طور پر بھیک مانگتے ہیں، یہ ہم سے بھی اچھی زندگی گزارتے ہیں۔ خیر دِلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ دریافت یہ کرنا تھا کہ ایک عام مسلمان کا ان فقیروں کی آواز پر کیا رَدِّعمل ہونا چاہئے؟ آیا ان کو خیرات دینی چاہئے اور ان کی آواز سن کر دِل کو کیا سوچنا چاہئے؟ یا دِل میں کیا تمنا پیدا ہونی چاہئے؟ تفصیل سے قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں۔

جواب:۔

ان میں سے بعض واقعی ضرورت مند بھی ہوسکتے ہیں، لیکن عام طور پر یہ لوگ پیشہ ور ہوتے ہیں، اور بھیک مانگ کر نشہ کرتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ ہیروئن وغیرہ کے عادی ہوتے ہیں، اس لئے پیشہ ور گداگروں کو دینا جائز نہیں، البتہ اگر کسی کے بارے میں دِل شہادت دے کہ یہ واقعی مستحق ہے، اس کو ضرور دینا چاہئے۔(۱)

  1. (۱) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوْت (من لہ قوْت یومہ) بالفعل أو بالقوّۃ کالصحیح المکتسب ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: ویأثم معطیہ ۔۔۔إلخ۔ قال الأکمل فی شرح المشارق: وأما الدفع إلٰی مثل ھٰذا السائل عالمًا بحالہ فحکمہ فی القیاس الْإثم بہ لأنہ إعانۃ علی الحرام لٰـکنہ یجعل ھبۃ وبالھبۃ للغنی أو لمن لَا یکون محتاجًا إلیہ لَا یکون إثما، أی لأن الصدقۃ علی الغنی ھبۃ کما أن الھبۃ للفقیر صدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۵، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔