بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ،‌فقراء‌وغیرہ‌سے‌متعلق‌مسائل

پیشہ‌ور‌گداگر‌کو‌خیرات‌دینا،‌نیز‌مسجد‌میں‌مانگنا‌اور‌ان‌کو‌دینا

سوال:۔

خیرات کے متعلق حضور مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ خیرات نہ روکو، تم سے رزق روک لیا جائے گا۔ ایک عالم نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ عام بھکاری کو خیرات دینا جائز نہیں ہے، اور صرف ایسے شخص کو دِی جاسکتی ہے جس کے پاس ایک وقت کے کھانے کے لئے کچھ نہ ہو اور وہ بھی تصدیق شدہ بات ہو۔ جبکہ آج کل کے بھکاریوں کے متعلق یہ معلوم کرنا ناممکن ہے، بلکہ شاید کوئی بھی بھکاری یا مانگنے والا ایسا نہ ہوگا جس کے پاس ایک وقت کے کھانے کے لئے کچھ نہ ہو۔ آپ مزید وضاحت فرمائیں کہ خیرات کن اشخاص کو دِی جاسکتی ہے تاکہ خیرات دینے والا ثواب کے بجائے گناہگار نہ ہو؟

مسجدوں میں بھی فرض جماعت کے فوراً بعد کچھ لوگ بآوازِ بلند اِمداد اور خیرات طلب کرتے ہیں، اور کافی تفصیل سے اپنے حالات بیان کرتے ہیں، جس سے اِنفرادی نماز کی ادائیگی میں خلل واقع ہوتا ہے، کیا مسجد میں مانگنا جائز ہے؟ اور ان کو دینے والا گناہگار تو نہیں؟

جواب:۔

پیشہ ور گداگر عام طور سے محتاج نہیں ہوتے، ان کو خیرات نہیں دینی چاہئے۔ خواہ مسجد میں مانگیں یا باہر۔ البتہ جس شخص کے بارے میں دِل گواہی دے کہ بیچارہ ضرورت مند، محتاج ہے، اس کو دے دینا چاہئے۔(۱)

  1. (۱) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوْت (من لہ قوْت یومہ) بالفعل أو بالقوّۃ کالصحیح المکتسب ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: ویأثم معطیہ ۔۔۔إلخ۔ قال الأکمل فی شرح المشارق: وأما الدفع إلٰی مثل ھٰذا السائل عالمًا بحالہ فحکمہ فی القیاس الْإثم بہ لأنہ إعانۃ علی الحرام لٰـکنہ یجعل ھبۃ وبالھبۃ للغنی أو لمن لَا یکون محتاجًا إلیہ لَا یکون إثما، أی لأن الصدقۃ علی الغنی ھبۃ کما أن الھبۃ للفقیر صدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۵، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔