صدقہ،فقراءوغیرہسےمتعلقمسائل
پیشہورگداگروںکوخیراتنہیںدینیچاہئے
سوال:۔
آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ شریعت کے لحاظ سے خیرات کسے دینا جائز ہے؟ کیونکہ آج کل کے دور میں ایسے لوگ بھی خیرات مانگتے ہیں جو بالکل صحت مند ہوتے ہیں تو کیا ان کو خیرات دینا جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر دے دی جائے تو کچھ گناہ تو نہیں؟ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں یتیم، مسکین یا بیوائیں ہیں یا نہیں؟ کیا ان میں یتیم، مسکین اور بیوائیں ہوسکتی ہیں؟ ویسے شکل سے دیکھنے میں لگتے نہیں، اور اگر نہ دیں تو ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں ہم نے اللہ کے حکم کی نافرمانی تو نہیں کی، جس سے ہم سزا کے سزاوار ہوں۔
جواب:۔
پیشہ ور گداگروں کو تو نہیں دینا چاہئے، ان کے علاوہ اگر غالب خیال ہو کہ یہ واقعی محتاج ہے تو دے دیا جائے، ورنہ نہیں۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لیس المسکین الذی یطوف علی الناس تردہ اللقمۃ واللقمتان والتمرۃ والتمرتان ولٰـکن المسکین الذی لَا یجد غنی یغنیہ ولَا یفطن بہ فیتصدق علیہ ولَا یقوم فیسأل الناس۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۰۰، کتاب الزکٰوۃ)۔ أیضًا: ویجوز دفعھا إلٰی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبًا کذا فی الزاھدی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، الباب السابع فی المصارف)۔

