صدقہ،فقراءوغیرہسےمتعلقمسائل
کیاسڑکوںپرمانگنےوالےگداگروںکودینابہترہےیانہدینا؟
سوال:۔
اکثر سڑکوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے یا ڈیرہ ڈالے ہوئے فقیر نظر آتے ہیں، جو ہر آنے جانے والے راہ گیر سے سوال کرتے ہیں، جن میں کچھ ضرورت مند ہوتے ہیں اور اکثر پیشہ ور ہوتے ہیں، مگر مسافروں اور راہ گیروں کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ کون اصلی ہے اور کون نقلی؟ جس کی وجہ سے بعض خیرات دینے والے غیرمستحق لوگوں کو دے جاتے ہیں، اسی وجہ سے بعض لوگ خیرات دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے، تو اس صورت میں خیرات دینے والے کو ثواب ہوگا یا نہیں؟ اب چاہے اس نے ضرورت مند کو دیا ہو یا پیشہ ور کو، کیونکہ اس بارے میں خیرات دینے والا نہیں جانتا۔ اور بعض لوگ خیرات نہیں دیتے، چاہے وہ ضرورت مند ہو یا پیشہ ور ہو، کیونکہ نہ دینے والا بھی یہ نہیں جانتا، تو کیا اس صورت میں اسے عذاب ہوگا؟
جواب:۔
پیشہ ور گداگروں کو خیرات دینا جائز نہیں۔(۱) ان میں سے اکثر مال دار ہوتے ہیں، ان کے لئے سوال کرنا حرام ہے اور ان کو خیرات دینے میں ان کے اس حرام پیشے کی معاونت ہے، اس لئے یہ بھی جائز نہیں۔ اور ان کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔(۲) اگر کسی شخص کے بارے میں یہ گمان غالب ہو کہ یہ واقعی مستحق ہے تو اس کو خیرات دے سکتے ہیں اور دینے کا ثواب بھی ہوگا۔ لیکن زکوٰۃ انہی لوگوں کو دینی چاہئے جو واقعتا محتاج ہوں، بھیک مانگنے کا پیشہ نہ کرتے ہوں۔
- (۱) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوت (من لہ قوت یومہ) بالفعل أو بالقوۃ کالصحیح المکتسب ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: ویأثم معطیہ ۔۔۔إلخ۔ قال الأکمل فی شرح المشارق: وأما الدفع إلٰی مثل ھٰذا السائل عالما بحالہ فحکمہ فی القیاس الْإثم بہ لأنہ إعانۃ علی الحرام لٰـکنّہ یجعل ھبۃ وبالھبۃ للغنی أو لمن لَا یکون محتاجًا إلیہ لَا یکون آثمًا، أی لأن الصدقۃ علی الغنی ھبۃ کما أنّ الھبۃ للفقیر صدقۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۳۵۵، مطلب فی الحوائج الأصلیۃ)۔
- (۲) ولَا یجوز دفع الزکٰوۃ إلٰی من یملک نصابًا أی مال کان دنانیر أو دراھم أو سوائم ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۸۹، الباب السابع فی المصارف)۔

