بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صدقہ،‌فقراء‌وغیرہ‌سے‌متعلق‌مسائل

کیا‌صدقہ‌دینے‌سے‌موت‌ٹل‌جاتی‌ہے؟

سوال:۔

حضرت اِمام جعفر صادقؒ سے روایت منسوب ہے کہ صدقہ دینے سے موت بھی ٹل جاتی ہے، کیا یہ دُرست ہے؟ جبکہ اُمّ الکتاب میں موت کا وقت معین اور اٹل ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے؟ وضاحت فرمادیں۔

جواب:۔

روایت کے جو الفاظ آپ نے نقل کئے ہیں، وہ تو کہیں نظر سے نہیں گزرے، البتہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ: ’’صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھاتا ہے اور بُری موت کو ٹالتا ہے‘‘۔(۱) اور طبرانی کی روایت میں ہے کہ: ’’مسلمان کا صدقہ عمر کو بڑھاتا ہے اور بُری موت کو ٹالتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے کبر، فقر اور فخر کو دُور کردیتے ہیں‘‘۔(۲) موت کا وقت جب آجاتا ہے تو وہ نہیں ٹلتی، البتہ بعض اعمال و اسباب کو عمر بڑھانے والے فرمایا گیا، اگر کوئی شخص ان اعمال کو اختیار کرلے تو عمر ضرور بڑھے گی اور یہ علمِ الٰہی میں پہلے سے طے شدہ ہے کہ یہ شخص ان اسباب کو اختیار کرے گا یا نہیں؟ اس لئے علمِ الٰہی میں موت کا وقت بہرحال متعین ہے۔(۳)

  1. (۱) عن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انّ الصدقۃ لتطفیٔ غضب الرَّبّ وتدفع میتۃ السوء۔ (ترمذی ج:۱ ص:۱۴۴، باب فضل الصدقۃ)۔
  2. (۲) صدقۃ المرء المسلم تزید فی العمر وتمتع میتۃ السوء ویذھب بھا اللہ الفخر والکبر۔ (کنز العمال ج:۶ ص:۳۶۱)۔
  3. (۳) عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أحبّ أن یبسط لہ فی رزقہ وینسا لہ فی أثرہ فلیصل رحمہ۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۹، باب البر والصلۃ)۔ وفی شرحہ: انہ بالنسبۃ إلٰی ما یظھر للملائکۃ فی اللوح المحفوظ ونحو ذالک فیظھر لھم فی اللوح ان عمرہ ستون سنۃ إلّا أن یصل رحمہ فإن وصلھا زید لہ أربعون وقد علم اللہ تعالٰی ما یسقع لہ من ذالک وھو من معنی قولہ تعالٰی: ﵟ يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ ﵞ۔۔۔إلخ۔ (المرقاۃ ج:۴ ص:۶۶۷)۔