نفلیصدقات
ایسیچیزکاصدقہجسکامالکلاپتاہو
سوال:۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ شدید بارش ہو رہی تھی، ایسے میں ایک بکری بھاگ کر ہمارے گھر آگئی، اور ہماری بکری کے ساتھ بیٹھ گئی، جب بارش رُکی تو ہم نے اسے باہر نکال دیا تاکہ جہاں سے آئی تھی وہاں چلی جائے، لیکن وہ بار بار ہماری بکری کے ساتھ آکر بیٹھ رہی تھی، آخرکار ہم نے مجبور ہوکر اسے باہر نکال کر دروازہ بند کردیا، ایسے میں ہماری گلی کا ہر شخص یہی چاہ رہا تھا کہ بکری مجھے مل جائے، ان کا اصرار یہی تھا کہ بکری اسے دے دی جائے، لیکن ہم نے نہ دی، بلکہ اسے لے کر علاقے سے دُور دراز مقامات تک گئے تاکہ مالک کا پتا لگایا جاسکے، لیکن پتا نہ چل سکا، بالآخر بکری ہم نے رکھ لی تاکہ اگر مالک آجائے تو اسے دے دی جائے، لیکن دو ماہ ہونے کے باوجود مالک کا کوئی پتا نہ چل سکا، نہ وہ خود آیا، اب اس بکری کو ہم بیچنا چاہتے ہیں اور بیچ کر روپیہ کو مطلوبہ شخص کے نام سے خیرات یا کسی دینی ادارے میں دے دینا چاہتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا یہ عمل صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو ہم کیا کریں؟
جواب:۔
آپ کا عمل صحیح ہے، یہی کرنا چاہئے، لیکن ساتھ ہی یہ نیت بھی ہو کہ اگر بعد میں اس کا مالک مل گیا اور اس نے بکری کی رقم کا مطالبہ کیا تو ہم رقم اسے واپس کردیں گے اور یہ صدقہ خود ہماری طرف سے شمار ہوگا۔(۱)
- (۱) فینتفع الرافع بھا لو فقیرًا وإلّا تصدق بھا علٰی فقیر ولو علٰی أصلہ وفرعہ وعرسہ ۔۔۔ فإن جاء مالکھا بعد التصدق خیر بین إجازۃ فعلہ ولو بعد ھلاکھا ولہ ثوابھا أو تضمینہ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۴ ص:۲۷۹، ۲۸۰)۔

