بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفلی‌صدقات

چوری‌کے‌مال‌کی‌واپسی‌یا‌اس‌کے‌برابر‌صدقہ

سوال:۔

کسی شخص نے کسی چیز کی چوری کی اور چوری کرنے کے بعد اس کو یہ خیال آیا کہ ایسا کرنا نہیں چاہئے تھا، لیکن جس جگہ سے وہ شیٔ ناجائز طور پر حاصل کی گئی تھی وہاں اس کا پہنچانا بھی ممکن نہ ہو تو کیا اس کی قیمت کے مساوی رقم خیرات کردینے کے بعد وہ مال تصرف میں لایا جاسکتا ہے؟

جواب:۔

اگر اس شخص کا پتا معلوم ہے تو وہ چیز یا اس کی قیمت اس کو پہنچانا لازم ہے، رقم بھیجنے میں تو کوئی اِشکال نہیں، بہرحال اگر اس شخص کا پتا نشان معلوم ہو تو اس کی طرف سے قیمت صدقہ کردینا کافی نہیں، بلکہ اس کو پہنچانا ضروری ہے، اور اگر وہ شخص مرگیا ہو تو اس کے وارث اگر معلوم ہوں تو ہر وارث تک اس کا حصہ پہنچانا لازم ہے، اگر اس کا پتا نشان معلوم نہ ہو تو اس کی طرف سے اس چیز کو صدقہ کردیا جائے۔(۱)

  1. (۱) علیہ دیون ومظالم جھل اربابھا وأیس من علیہ ذٰلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ وإن إستغرقت جمیع مالہ ھٰذا مذھب أصحابنا ۔۔۔ وسقط عنہ المطالبۃ من أصحاب الدیون فی العقبٰی۔ وفی الشرح قولہ جھل أربابھا یشمل ورثتھم فلو علمھم لزمہ الدفع إلیھم لأن الدَّین صار حقھم۔ (شامی ج:۴ ص:۲۸۳، کتاب اللقطۃ)۔