نفلیصدقات
خیراتکاکھاناکھلانےکاصحیحطریقہ
سوال:۔
ہمارے محلے میں مسجد ہے، اس میں محلے کے لوگ ہر جمعرات کو شام کے وقت کھانا لاتے ہیں خیرات کی نیت سے، نمازی ایک دو لقمہ ڈال کر اُٹھتا ہے، ایسے ہی ایک ایک کرکے کافی نمازی ایک دو لقمہ ڈال کر چلتے ہیں، کوئی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھاسکتا، کیونکہ وہ اتنا ہوتا نہیں ہے کہ سب نمازی پیٹ بھر کر کھالیں، کیا بہتر یہ نہیں کہ وہ ایک جگہ گھر پر ۵ آدمی بلاکر پیٹ بھر کر کھلادے۔
جواب:۔
اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ محلے میں کوئی تنگ دست ہو تو اس کے گھر کھانا بھیج دیا جائے، یا اتنی رقم نقد اس کو دے دی جائے۔(۱) بعض لوگ کھانا کھلانے ہی کو صدقہ سمجھتے ہیں، اگر ضرورت مندوں کو نقد دیا جائے یا غلہ دے دیا جائے، اس کو صدقہ ہی نہیں سمجھتے، اسی طرح بعض لوگ جمعرات ہی کو کھانا مسجد میں بھیجنا ضروری سمجھتے ہیں، حالانکہ صدقہ کے لئے نہ جمعرات کی شرط ہے اور نہ مسجد بھیجنے کی۔ بعض لوگ ایصالِ ثواب کے لئے کھانا کھلاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک کھانے پر فاتحہ نہ دلائی جائے ایصالِ ثواب ہی نہیں ہوتا، یہ بھی غلط ہے۔ آپ نے اِخلاص کے ساتھ جو کچھ بھی راہِ خدا میں دے دیا وہ قبول ہوجاتا ہے اور اگر آپ اس کا ثواب کسی عزیز یا بزرگ کو پہنچانا چاہتے ہیں تو ایصالِ ثواب کی نیت سے اس کو ثواب پہنچ جاتا ہے۔(۲)
- (۱) وذکر فی الفتاویٰ ان أداء القیمۃ أفضل من عین المنصوص علیہ وعلیہ الفتویٰ۔ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۹۲، الباب السابع فی المصارف)۔
- (۲) وفی التتارخانیۃ عن المحیط الأفضل لمن یتصدق نفلًا أن ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لأنھا تصل إلیھم ولَا ینقص من أجرہ شیء۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۷، مطلب الأفضل علٰی أن ینوی بالصدقۃ جمیع المؤمنین والمؤمنات)۔

