بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

قرآنِ‌کریم،‌نفل‌پڑھنے‌کی‌منّت‌ادا‌نہ‌کرسکیں‌تو‌کفارہ‌کیا‌ہوگا؟

سوال:۔

میں نے کچھ منتیں کام پورے ہونے کے لئے مانی تھیں، اب میں وہ بھول گیا ہوں، تو میں ان منتوں کو کس طرح پورا کروں؟ کیونکہ میرا کام ہوگیا ہے، نیز منتوں میں قرآن مجید، نفلیں وغیرہ بھی شامل ہیں، کیا ان کا کفارہ بھی دیا جاسکتا ہے یا کہ ان کو پورا کرنا ہی ضروری ہے؟

جواب:۔

منّت ماننے کے بعد اس کا پورا کرنا لازم ہوجاتا ہے۔(۱) قرآن مجید پڑھنے کی جو منّت کی تھی وہ تو لازم ہے۔(۲) اسی طرح نفل پڑھنے یا روزہ رکھنے کی جو منّت کی تھی اس کا پورا کرنا بھی لازم ہے۔ آپ سوچ کر اتنی رکعتیں ادا کرلیں، اس کے سوا ان کا کوئی کفارہ نہیں۔(۳)

  1. (۱) ومن نذر نذرًا مطلقًا أو معلقًا بشرط ۔۔۔ ووجد الشرط المعلق بہ لزم الناذر لحدیث من نذر وسمٰی فعلیہ الوفاء بما سمٰی کصوم وصلاۃ وصدقۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان)۔
  2. (۲) ولو نذر التسبیحات دبر الصلاۃ لم یلزمہ۔ وفی الشرح: قولہ لم یلزمہ وکذا لو نذر قرائۃ القرآن وعللہ القھستانی فی باب الْإعتکاف بأنھا للصلاۃ وفی الخانیۃ ولو قال علی الطواف بالبیت والسعی بین الصفا والمروۃ أو علٰی أن قرائۃ القرٓان إن فعلت کذا لَا یلزمہ شیء۔ قلت وھو مشکل فإن القرائۃ عبادۃ مقصودۃ ومن جنسھا واجب وکذا الطواف فإنہ عبادۃ مقصودۃ أیضًا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۷۳۸، کتاب الأیمان)۔
  3. (۳) گزشتہ حاشیہ: ومن نذر نذرًا...الخ