بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

قرآن‌مجید‌ختم‌کروانے‌کی‌منّت‌لازم‌نہیں‌ہوتی

سوال:۔

جب ہم کسی کام کے پورا ہونے کے لئے منّت مانتے ہیں کہ فلاں کام پورا ہونے پر ہم قرآن شریف ختم کروائیں گے، اس کے لئے محلہ والوں کو بلاکر حافظوں سے قرآن شریف ختم کروایا جاتا ہے، میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اکیلا آدمی قرآن شریف ختم کرسکتا ہے؟ اور یہ کہ کتنے دنوں کے اندر قرآن شریف ختم کرنا چاہئے؟

جواب:۔

منّت کے لازم ہونے کی حضراتِ فقہاء نے خاصی شرطیں لکھی ہیں، اگر وہ شرطیں نہ پائی جائیں تو منّت لازم نہیں ہوتی، ان شرطوں کے مطابق اگر کسی نے یہ منّت مانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں قرآن شریف ختم کراؤں گا، تو اس سے منّت بھی لازم نہیں ہوتی، اور اس کا پور اکرنا واجب نہیں۔(۱) اس لئے کہ اگر وہ یہ کہتا ہے کہ میں قرآن پڑھوں گا، تب تو واجب ہوجاتی،(۲) مگر چونکہ دُوسروں سے قرآن پڑھوانا ایک ایسا اَمر ہے جو خود عبادت نہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص روزے رکھوانے کی منّت مانے تو اس پر منّت واجب نہیں ہوگی۔

  1. (۱) ولم یلزم الناذر ما لیس من جنسہ فرض کعیادۃ مریض وتشییع جنازۃ ودخول مسجد ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۷۳۶، کتاب الأیمان)۔
  2. (۲) ولو نذر التسبیحات دبر الصلاۃ لم یلزمہ۔ وفی الشرح: قولہ لم یلزمہ وکذا لو نذر قرائۃ القرآن وعللہ القھستانی فی باب الْإعتکاف بأنھا للصلاۃ وفی الخانیۃ ولو قال علی الطواف بالبیت والسعی بین الصفا والمروۃ أو علٰی أن قرائۃ القرٓان إن فعلت کذا لَا یلزمہ شیء۔ قلت وھو مشکل فإن القرائۃ عبادۃ مقصودۃ ومن جنسھا واجب وکذا الطواف فإنہ عبادۃ مقصودۃ أیضًا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۷۳۸، کتاب الأیمان)۔