بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

منّت‌کا‌گوشت‌صرف‌غریب‌کھاسکتے‌ہیں

سوال:۔

میری ہمشیرہ نے یہ منّت مانی تھی کہ اگر میرا کام ہوگیا تو میں اللہ کے نام پر بکرا ذبح کروں گی، لہٰذا اب ان کا کام ہوگیا ہے، اور وہ اپنی منّت پوری کرنا چاہتی ہیں اور اللہ کے نام کا بکرا کرنا چاہتی ہیں، تو کیا اس بکرے کا گوشت عزیز و رشتہ دار اور گھر والے استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ براہِ کرم رہبری فرمائیں۔

سوال:۔

آپ نے جمعہ ایڈیشن میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا تھا کہ منّت کا گوشت پورے کا پورا اللہ کی راہ میں تقسیم کرنا چاہئے، یہ خود کھانا یا رشتہ داروں کو کھلانا ناجائز ہے، کیا دُوسری چیزوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے؟ مثلاً: اگر کوئی شخص بکرے کے علاوہ کسی چیز کی منّت مانتا ہے تو کیا وہ بھی ساری کی ساری اللہ کی راہ میں تقسیم کرنی چاہئے؟

جواب:۔

منّت کی چیز کو صرف غریب غرباء کھاسکتے ہیں، عزیز و اقارب اور کھاتے پیتے لوگوں کو اس کا کھانا جائز نہیں، ورنہ منّت پوری نہیں ہوگی۔(۱)

جواب:۔

جی ہاں! نذر کی تمام چیزوں کا یہی حکم ہے کہ ان کو غریب غرباء پر تقسیم کردیا جائے، غنی (مال دار) لوگوں کا اس کو کھانا جائز نہیں، اور نذر ماننے والا اور اس کے اہل و عیال خود بھی اس کو نہیں کھاسکتے۔(۲)

إذ مصرف النذر الفقراء ۔۔۔ ولَا یجوز أن یصرف ذٰلک لغنی غیر محتاج ولَا لشریف منصب لأنہ لَا یحل لہ الأخذ ما لم یکن محتاجًا فقیرًا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۳۲۱، قبیل باب الْإعتکاف)۔

  1. (۱)مصرف الزکاۃ ۔۔۔ ھو الفقیر والمسکین ۔۔۔إلخ۔ وھو مصرف أیضًا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذالک من الصدقات الواجبۃ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۳۳۹، وفی البحر ج:۲ ص:۳۲۱ مثلہ)۔
  2. (۲) مصرف الزکاۃ ۔۔۔ ھو الفقیر والمسکین ۔۔۔إلخ۔ وھو مصرف أیضًا لصدقۃ الفطر والکفارۃ والنذر وغیر ذالک من الصدقات الواجبۃ۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۲ ص:۳۳۹، وفی البحر ج:۲ ص:۳۲۱ مثلہ)۔