منّتوصدقہ
جوگوشتفقراءمیںتقسیمکردیاوہصدقہہے،جوگھرمیںرکھاوہصدقہنہیں
سوال:۔
فرنٹیر کے دیہاتی علاقوں میں رسوماتی روایات جاری ہیں، جن میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں، ہمارے گاؤں سے جو لوگ بیرونی ممالک میں مزدوری کرتے ہیں یا نوکری سے واپسی پر چھٹی کے دوران ایک دو یا زائد گائے یا بیل صدقہ کرتے ہیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ میں نے گشتی مانی تھی جو کر رہا ہوں (داد صدقہ) اس کی تقسیم اس طرح ہوتی ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں بانٹ دیا جاتا ہے، جس کے لئے کوئی پیمانہ یا اوزان نہیں ہوتا، اندازہ ہوتا ہے، ایک حصہ گھر کے لئے رکھ دیا جاتا ہے، باقی دو کو اکٹھا ملاکر چھوٹا کاٹ لیتے ہیں اور رشتہ داری میں ہر گھر میں فی کس آدھا کلوگرام کے حساب سے دیتے ہیں، زیادہ قرابت داروں کو بغیر حساب کے بھی دیا جاتا ہے، اس وقت جو غیر لوگ موجود ہوتے ہیں انہیں صرف آدھا کلوگرام کے حساب سے دیا جاتا ہے، باقی گوشت گھر کے لئے رکھ دیا جاتا ہے، جبکہ گائے یا بیل کا چمڑا، سر اور اندرونی گوشت مثلاً: دِل، کلیجہ، گردے، پھیپھڑے اور تھوڑا بہت دُوسرا اچھا گوشت پہلے ہی اپنے گھر کے لئے رکھ دیا جاتا ہے۔ ہمیں اختلاف ہے، اگر وہ صدقہ ہے تو اس کو گشتی کا نام کیوں دیا جاتا ہے؟ پھر اگر صدقہ تصوّر کرکے دیا جاتا ہے تو کیا اس کا یہ طریقہ دُرست ہے؟ خدا اسے منظور کرلیتا ہے؟
جواب:۔
’’گشتی‘‘ کا مطلب تو میں سمجھا نہیں، اگر یہ نذر ہوتی ہے تو پورے کا صدقہ کرنا ضروری ہے،(۱) خود کھانا یا امیروں کو دینا جائز نہیں۔(۲) اور اگر ویسے ہی صدقہ ہوتا ہے تو جتنا گوشت فقراء کو تقسیم کردیا وہ صدقہ ہے اور جو گھر میں رکھ لیا وہ صدقہ نہیں۔(۳)
- (۱) بخلاف النذر المعلق فإنہ لَا یجوز تعجیلہ قبل وجود الشرط۔ (شامی ج:۳ ص:۷۴۱، مطلب النذر غیر معلق ۔۔۔إلخ)۔
- (۲) إذ مصرف النذر الفقراء ۔۔۔ ولَا یجوز أن یصرف ذٰلک لغنی غیر محتاج ولَا لشریف منصب لأنہ لَا یحل لہ الأخذ ما لم یکن محتاجًا فقیرًا۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۳۲۱، قبیل باب الْإعتکاف)۔
- (۳) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أنھم ذبحوا شاۃ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ما بقی منھا؟ قالت: ما بقی منھا إلّا کتفھا، قال: بقی کلھا غیر کتفھا۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۹، باب فضل الصدقۃ، الفصل الثانی)۔

