بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

روزوں‌کی‌منّت‌پوری‌کرنا‌ضروری‌ہے

سوال:۔

مولانا صاحب! میری بہن کی شادی کو تقریباً گیارہ سال کا عرصہ ہوگیا، ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے آج سے تقریباً چار سال قبل منّت مانی تھی کہ اگر میرے ہاں اولاد ہوئی تو میں چالیس روزے رکھوں گی، اللہ کے فضل سے پہلے ایک لڑکا ہوا جو کہ نامکمل تھا، اس کے بعد ایک اور لڑکا ہوا جو کہ ٹھیک نہیں رہتا، اور اَب لڑکی ہوئی ہے، وہ بھی ٹھیک نہیں ہے، میری بہن نے اب بتایا کہ جو منّت مانی تھی وہ میں بھول گئی۔ مولانا صاحب! ہر طرح کی پریشانیاں دیکھ لی ہیں، معلوم اب یہ کرنا ہے کہ جو چالیس روزوں کی منّت مانی تھی، اس کا کفارہ کیسے ادا کیا جائے؟

جواب:۔

چالیس روزوں کی منّت پوری کرنا ضروری ہے۔(۱)

  1. (۱) النذر الذی لَا تسمیۃ فیہ فحکمہ وجوب ما نوی إن کان الناذر نوی شیئًا سواء کان مطلقًا عن شرط أو معلقًا بشرط بأن قال ﷲ علیّ نذر أو قال إن فعلت کذا فللّٰہ علیّ نذر فإن نوی صومًا أو صلاۃ أو حجا أو عمرۃ لزمہ الوفاء بہ فی المطلق للحال وفی المعلق بالشرط عند وجود الشرط ولَا تجزیہ الکفارۃ۔ (بدائع الصنائع ج:۵ ص:۹۲، کتاب النذر)۔