بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

منّت‌کا‌ایک‌ہی‌روزہ‌رکھنا‌ہوگا‌یا‌دو؟

سوال:۔

کسی آدمی نے منّت مانی تھی کہ میرا فلاں کام پورا ہوگیا تو میں ہر سال محرّم کے مہینے میں یا کسی اور مہینے میں ایک روزہ رکھوں گا، اس کی منّت پوری ہوگئی، روزہ تو ہر سال اپنے مقرّرہ مہینے میں رکھتا ہے، مگر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ منّت کا روزہ اکیلا ایک نہیں رکھا جاتا، دو لگاتار رکھے۔ برائے مہربانی اس سلسلے میں از رُوئے شریعت روشنی ڈالیں تاکہ شک دُور ہو، اگر دو روزے لگاتار رکھنے تھے تو گزشتہ جتنے سالوں کے روزے رکھے ہوں ان کا کفارہ کس طرح ادا کیا جائے؟

جواب:۔

اگر ایک ہی روزے کی منّت مانی تھی تو ایک روزہ واجب ہے،(۱) دُوسرا مستحب، اس کی قضا رکھنے کی ضرورت نہیں۔

  1. (۱) ولو جعل علیہ ۔۔۔ صومًا أو صلاۃ أو صدقۃ ۔۔۔ لزمہ ذٰلک الذی جعلہ علٰی نفسہ۔ (عالمگیری ج:۲ ص: ۶۵، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینا وما لَا یکون یمینا)۔