منّتوصدقہ
اگرصدقہکیامانتگمہوگئیتواسکااداکرنالازمنہیں
سوال:۔
کچھ دن پہلے میری بڑی بہن (غیرشادی شدہ) نے مجھے چار سو روپے بکرا صدقہ کرنے کے لئے دئیے، اور ساتھ ہی یہ نصیحت کی کہ یہ روپے تمہارے روپوں میں شامل نہ ہوں۔ میں نے یہ روپے الگ رکھنے کی غرض سے موڑ کر جیب میں رکھ لئے کہ صبح بکرا صدقہ کروادوں گا۔ لیکن اتفاق سے یہ روپے اسی رات کو میری جیب سے کہیں نکل گئے، میرے اندازے سے یہ روپے موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے جیب میں الگ ہونے کی وجہ سے نکل کر کہیں اُڑ گئے ہیں۔ اس طرح میری بہن نے جو رقم صدقے کے لئے نکالی تھی، وہ اس مقصد کے لئے استعمال نہ ہوئی۔ آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ایسی صورت میں صدقہ ہوگیا یا نہیں جبکہ نیت بالکل صاف تھی؟ اور حدیث میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں کو دیکھتا ہے۔ اگر میں چاہوں تو اپنی جیب خرچ سے پیسے بچاکر اتنی ہی رقم دوبارہ جمع کرکے صدقہ کرسکتا ہوں۔ برائے مہربانی میری اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کیونکہ جس دن سے روپے کھوئے ہیں، میں شدید ذہنی اُلجھن کا شکار ہوں۔
جواب:۔
آپ کے ذمہ ان پیسوں کا ادا کرنا لازم نہیں۔(۱) اگر آپ کی بہن نے نفلی صدقے کے لئے دئیے تھے تو ان کے ذمہ کچھ لازم نہیں، اور اگر نذر مانی تھی تو ان کے ذمہ اس نذر کا پورا کرنا لازم ہے۔(۲)
- (۱) قال فی المنح: إن الأمانۃ علم لما ھو غیر مضمون، فشمل جمیع الصور التی لَا ضمان فیھا کالعاریۃ والمستأجرۃ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۶۶۲، کتاب الْإیداع، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) ومن نذر نذرًا مطلقًا أو معلقًا بشرط ۔۔۔ ووجہ الشرط المعلق بہ لزم الناذر الحدیث من نذر وسمٰی فعلیہ الوفاء بما سمٰی۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان، طبع سعید)۔

