بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

کام‌ہونے‌کے‌لئے‌جس‌چیز‌کی‌منّت‌مانی‌تھی‌وہ‌بھول‌گئی‌تو‌کیا‌کرے؟

سوال:۔

میں نے منّت مانی تھی کہ اگر میری مراد پوری ہوگئی تو میں روزے رکھوں گا اور صدقہ دوں گا وغیرہ۔ اس سلسلے میں پوچھنا یہ ہے کہ مجھے صحیح طرح یاد نہیں ہے کہ میں نے کتنے روزوں کی منّت مانی تھی اور صدقے میں کیا دینا ہے؟ تو کیا میں دوبارہ کسی چیز کی نیت کرسکتا ہوں (یعنی صدقہ وغیرہ یا نفل نماز یا روزے وغیرہ کی تعداد یا پیسوں کی مقدار دوبارہ معین کرسکتا ہوں کہ نہیں؟) یہ واضح رہے کہ ابھی میری مراد پوری نہیں ہوئی، میں چاہتا ہوں کہ جو بھی منّت مانوں، اسے پورا کروں، اس لئے لکھ کر اپنے پاس رکھ لوں تاکہ یاد رہ سکے، یا پھر مجھے پہلے والی منّت پوری کرنی ہوگی؟

جواب:۔

جس کام کے لئے آپ نے منّت مانی تھی اگر وہ پورا نہیں ہوا تو منّت لازم نہیں ہوتی، اگر آپ نے یوں کہا تھا کہ اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا صدقہ دوں گا، تب تو کام پورا ہوجانے کی صورت میں آپ کو اتنے ہی روزے رکھنے ہوں گے اور صدقہ دینا ہوگا۔(۱) اور اگر یاد نہیں تو غور و فکر کے بعد جو مقدار ذہن میں آئے اس کو پورا کرنا ہوگا، اور اگر یوں کہا تھا کہ کچھ روزے رکھوں گا یا کچھ صدقہ دوں گا، تو اب اس کا تعین کرسکتے ہیں۔

  1. (۱) ومن نذر نذرًا مطلقًا أو معلقًا بشرط ۔۔۔ ووجہ الشرط المعلق بہ لزم الناذر الحدیث من نذر وسمٰی فعلیہ الوفاء بما سمٰی۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان، طبع سعید)۔