بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

کسی‌کام‌کی‌منّت‌مان‌کر‌اُس‌کام‌کو‌روک‌دیا‌تو‌منّت‌لازم‌نہیں‌ہوتی

سوال:۔

اگر کوئی منّت مانے کہ اس کا کام ہوجائے، لیکن اس کا کام نہ ہو، پھر وہ اسی کام کے پورا ہونے کے لئے ایک عمل کرے اور عمل کے لئے بھی منّت مانے، لیکن وہ عمل کسی وجہ سے روکنا پڑے، کیا ایسی صورت میں منّت پوری کرنا واجب ہے؟

سوال:۔

پھر یہی عمل وہ اِضافی کام کے ساتھ کرے لیکن عمل مکمل ہونے کے بعد بھی اس کا کام نہ ہو تو کیا اس صورت میں منّت پوری کرنا واجب ہے؟

سوال:۔

جس پہلے کام کے لئے عمل کیا جارہا تھا، اگر اس کام کو پورا کرنے کے لئے پہلے عمل کو چھوڑ کر کوئی دُوسرا عمل رُوحانی یا دُوسرا طریقہ شروع کردیا جائے اور اس دُوسرے طریقے سے کام ہوجائے تو کیا منّت پوری کرنا واجب ہے؟

سوال:۔

کام سے پہلے بہت ساری منتیں مانی تھیں، کیا ان سب کا پورا کرنا لازم ہے؟

جواب:۔

کام ہوجائے تو منّت کا پورا کرنا لازم ہے، ورنہ نہیں۔(۱)

جواب:۔

کام نہ ہو تو منّت واجب نہیں۔(۲)

جواب:۔

کام ہوجائے تو منّت پوری کرنا ضروری ہے۔(۳)

جواب:۔

کام ہونے پر منّت کا پورا کرنا ضروری ہے، البتہ اگر میعاد مقرّر کردی تھی اور اس میعاد میں کام نہیں ہوا تو منّت لازم نہیں ہوئی۔(۴)

ومن نذر نذرًا مطلقًا أو معلقًا بشرط ۔۔۔ ووجد الشرط المعلق بہ لزم الناذر لحدیث من نذر وسمٰی فعلیہ الوفاء بما سمٰی کصوم وصلاۃ وصدقۃ ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان)۔

  1. (۱) إذا نذر شیئًا من القربات لزمہ الوفاء بہ لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلۡيُوفُواْ نُذُورَهُمۡ ﵞ، وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: من نذر أن یطیع اللہ فلیطعہ ومن نذر أن یعصی اللہ فلا یعصہ۔ رواہ البخاری۔ والْإجماع علٰی وجوب الْإیفاء بہ وبہ استدل القائلون بإفتراضہ۔ (حاشیۃ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۳۷۸)۔
  2. (۲) إذا نذر شیئًا من القربات لزمہ الوفاء بہ لقولہ تعالٰی: ﵟ وَلۡيُوفُواْ نُذُورَهُمۡ ﵞ، وقولہ صلی اللہ علیہ وسلم: من نذر أن یطیع اللہ فلیطعہ ومن نذر أن یعصی اللہ فلا یعصہ۔ رواہ البخاری۔ والْإجماع علٰی وجوب الْإیفاء بہ وبہ استدل القائلون بإفتراضہ۔ (حاشیۃ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۳۷۸)۔
  3. (۳) فإن نذر مکلف نذرًا بشیء مما یصح نذرہ وکان مطلقًا غیر مقید بوجود شیء کقولہ: ﷲ علَیَّ أو نذر ﷲ علَیَّ صلاۃ رکعتین أو معلقًا بشرط یرید کونہ کقولہ: إن رزقنی اللہ غلامًا فعلیَّ إطعام عشرۃ مساکین ووجد الشرط لزمہ الوفاء بہ۔ (حاشیۃ طحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص: ۳۷۹، باب ما یلزم الوفاء بہ)۔
  4. (۴) ایضاً۔