بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

’’ایک‌ہاتھ‌سے‌صدقہ‌دیا‌جائے‌تو‌دُوسرے‌ہاتھ‌کو‌پتا‌نہ‌چلے‘‘‌کا‌مطلب

سوال:۔

صدقے کے بارے میں علمائے کرام سے سنا ہے کہ اس طرح دیا جائے کہ دُوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو۔ ’’دُوسرے ہاتھ‘‘ سے مراد، دُوسرا آدمی ہے، کیا اگر ایک آدمی صدقہ دینا چاہتا ہے اور وہ خود باہر کے ملک میں کاروبار کر رہا ہے، جس آدمی کو صدقہ دینا چاہتا ہے اس کا کوئی ایڈریس نہیں ہے، (بیوہ عورت ہے) وہ کس طرح اس کو دے گا؟ اگر صدقے کی رقم اپنی بیوی کے ذریعے دینا چاہے تو کیا اس صدقے میں کوئی حرج تو نہیں؟ جبکہ بیوی خاوند کے حقوق مساوی ہیں، اس طرح صدقہ ہوجائے گا یا نہیں؟ اس کا متبادل حل بتائیں۔

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس کے مطابق بیوی کے ذریعے صدقہ دینے میں کوئی حرج نہیں، ’’ایک ہاتھ سے دیا جائے تو دُوسرے ہاتھ کو پتا نہ چلے‘‘ سے مقصود یہ ہے کہ نمود و نمائش اور ریاکاری نہیں ہونی چاہئے۔(۱) اور گھر کے معتمد علیہ فرد کے ذریعے صدقہ دینا ریاکاری نہیں۔

  1. (۱) عن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ قال: نعم ابن آدم تصدّق صدقۃ بیمینہ یخفیھا من شمالہ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷۰)۔ وفی شرح المشکٰوۃ: حیث منعھا عن إظھار الصدقۃ إیثار للسمعۃ وحبا للثناء أو باعتبار أنہ قھر الشیطان أو باعتبار أنہ حصل رضا الرحمٰن۔ (مرقاہ المفاتیح، باب فضل الصدقۃ ج:۲ ص:۴۸۳)۔