منّتوصدقہ
حراممالسےصدقہناجائزاورموجبِوبالہے
سوال:۔
بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رشوت، سود، ناجائز تجارت، حرام کاروبار وغیرہ سے روپیہ جمع کرتے ہیں اور پھر اس سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور حج بھی کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ حرام روپیہ تو کمانا گناہ ہے، پھر اس روپے سے صدقہ وغیرہ جائز ہے؟
جواب:۔
مالِ حرام سے صدقہ قبول نہیں ہوتا، بلکہ اُلٹا موجبِ وبال ہے، حدیث شریف میں ہے کہ:
’’اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک ہی چیز کو قبول کرتے ہیں۔‘‘(۱)
حرام اور ناجائز مال کا صدقہ کرنے کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص گندگی کا ٹوکرا کسی بادشاہ کو ہدیہ کے طور پیش کرے، ظاہر ہے کہ اس سے بادشاہ خوش نہیں ہوگا، اُلٹا ناراض ہوگا۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الأوّل)۔

