بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

پرائی‌لکڑیوں‌سے‌پکی‌ہوئی‌چیز‌جائز‌نہیں

سوال:۔

ہم نے اللہ کے نام پر کچھ پکاکر تقسیم کرنے کا ارادہ کیا، اور وہ اللہ کے حکم سے پورا ہوگیا، پکانے کے دوران لکڑی کی کمی ہوگئی، اور کسی پریشانی یا کسی وجہ سے لکڑی نہ مل سکی، تو ہم نے کسی گراؤنڈ سے تھوڑی سی لکڑی اُٹھالی، کام پورا ہوگیا، لکڑی کے مالک کو ڈھونڈنا پریشان کن تھا، اس لئے لکڑی کے وزن کے مطابق جو رقم بنتی تھی وہ خیرات کردی، کیا یہ چیز جو تقسیم کی گئی وہ حرام ہوگئی؟

جواب:۔

اللہ کے نام پر جو چیز دینی ہو اتنی رقم چپکے سے کسی مستحق کو دے دینی چاہئے، پکاکر کھلانا کوئی ضروری نہیں۔(۱) اور پرائی لکڑی اُٹھاکر اللہ کے نام کی چیز پکانا جائز نہیں۔(۲) جس کی لکڑیاں تھیں اس کو تلاش کرکے ان لکڑیوں کی قیمت ادا کی جائے، یا اس سے معافی مانگی جائے۔(۳)

  1. (۱) وجاز دفع القیمۃ فی زکٰوۃ وعشر وخراج وفطرۃ ونذر ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۲ ص:۲۸۵)۔
  2. (۲) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امرئٍ إلّا بطیب نفس منہ۔ رواہ البیھقی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ، الفصل الثانی)۔
  3. (۳) وقسم یحتاج إلی التراد وھو حق الآدمی والقرار ما فی الدنیا بالْإستحلال أو رد العین أو بدلہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، باب الکبائر ج:۱ ص:۱۰۲)۔