منّتوصدقہ
بیماریسےتندرستیکےلئےمنّتکاماننا
سوال:۔
میں ایک حادثے میں جل گیا تھا، اور جب میری بیوی کو اس کی اِطلاع ملی تو انہوں نے منّت مانی، میرے شوہر خیریت سے گھر آجائیں گے تو ایک عدد نیا قرآن شریف مسجد میں رکھواؤں گی۔ اور ۴۱ مرتبہ یٰسین شریف پڑھواؤں گی۔ اور جب میں اسپتال سے گھر خیریت سے آیا تو میری بیوی نے مجھے منّت کا بتایا، اور جب میں نے اپنے بزرگوں کے سامنے منّت کا مسئلہ رکھا تو انہوں نے کہا کہ مرنے کے بعد مرحوم کے اِیصالِ ثواب کے لئے تو قرآن شریف مسجد میں رکھوایا جاتا ہے، پہلے نہیں۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا میں قرآن شریف مسجد میں رکھوادوں یا پھر اس کا کفارہ ادا کروں؟ اگر کفارہ ہوگا تو کتنا ہوگا؟ کیا میں ۴۱ مرتبہ یٰسین شریف پڑھوادوں؟ اس میں کوئی حرج تو نہیں؟
جواب:۔
مسجد میں قرآن مجید رکھوانا تو منّت کی وجہ سے لازم ہے۔(۱) اور یہ تصوّر غلط ہے کہ قرآن مجید صرف مردے کے لئے رکھوایا جاتا ہے۔ سورۂ یٰسین پڑھوانے کی منّت لازم نہیں، ہاں اگر خود پڑھنے کی منّت ہوتی تو پڑھنا لازم ہوتا،(۲) تاہم اگر پڑھوادے تو اچھا ہے۔
- (۱) ومن نذر نذرا مطلقًا ۔۔۔ لزم الناذر ۔۔۔ کصوم وصلاۃ وصدقۃ ووقف ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار ج:۳ ص:۷۳۵، کتاب الأیمان)۔
- (۲) قولہ لم یلزمہ وکذا لو نذر قرائۃ القرآن، قلت وھو مشکل فإن القرائۃ عبادۃ مقصودۃ ومن جنسھا واجب وکذا الطواف فإنہ عبادۃ مقصودۃ أیضًا۔ (رد المحتار ج:۳ ص:۷۳۸، کتاب الأیمان)۔

