منّتوصدقہ
بکریکسیزندہیاوفاتشدہکےنامکرنا
سوال:۔
کیا یہ صحیح ہے کہ ایک بکری کسی زندہ یا وفات شدہ کے نام کردیں اور پھر اس کو ذبح کریں تو اس کا کھانا جائز ہے؟ یا ایسا کہے کہ میرا یہ فلاں کام ہوگیا تو میں یہ بکری اس ولی اللہ کے نام پر ذبح کروں گا؟
جواب:۔
بکری کسی بزرگ کے نام کردینے سے اگر یہ مراد ہے کہ اس صدقے کا ثواب اس بزرگ کو پہنچے تو ٹھیک ہے، اور اس بکری کا گوشت حلال ہے، جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کی گئی ہو۔(۱) اور اگر اس بزرگ کے نام چڑھاوا مقصود ہے تو یہ شرک ہے، اور وہ بکری حرام ہے، اِلَّا یہ کہ نذر ماننے والا اپنے فعل سے توبہ کرکے اپنی نذر سے باز آجائے۔(۲)
- (۱) اللھم إلّا إن قال یا اللہ إنی نذرت لک إن شفیت مریضی أو رددت غائبی أو قضیت حاجتی أن أطعم الفقراء الذین بباب السیدۃ نفیسۃ أو الْإمام الشافعی أو الْإمام اللیث أو أشتری حصر المساجد أو زیتًا لوقودھا أو دراھم لمن یقوم بشعائرھا إلٰی غیر ذٰلک مما یکون فیہ نفع للفقراء والنذر ﷲ عزّ وجلّ۔ (رد المحتار ج:۲ ص: ۴۳۹، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم)۔
- (۲) واعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤکذ من الدراھم والشمع والزیت ونحوھما إلٰی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیھم فھو بالْإجماع باطل وحرام۔ وفی الشرح: بوجوہ منھا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لَا تکون لمخلوق۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۴۳۹، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم)۔

