بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

غیراللہ‌کی‌منّت‌ماننا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

اکثر لوگ معمولی باتوں پر بھی منتیں مان لیتے ہیں، اور اپنے مسائل اولیاء اور اَنبیاء کے سپرد کردیتے ہیں، کیا ایسا کرنا گناہ کا باعث تو نہیں؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی منّت نہیں ماننی چاہئے، اور منّت ماننا کسی ولی کو لالچ دینے کے مترادف تو نہیں، مثلاً: منّت میں کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں کام پورا ہوا تو یہ کریں گے، وہ کریں گے، وغیرہ وغیرہ۔

جواب:۔

غیراللہ کی منّت ماننا گناہ اور شرک ہے، اس سے توبہ کرنی چاہئے، اور اللہ تعالیٰ کے نام کی منّت ماننا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱) واعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤکذ من الدراھم والشمع والزیت ونحوھما إلٰی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیھم فھو بالْإجماع باطل وحرام۔ وفی الشرح: بوجوہ منھا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لَا تکون لمخلوق۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۴۳۹، فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم)۔