بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

منّت‌و‌صدقہ

غیراللہ‌کی‌نیاز‌کا‌مسئلہ

سوال:۔

کیا اِمام جعفر صادقؒ کی نیاز اور گیارہویں کا کھانا حرام ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی غیر کی نیاز نہیں ہوتی؟

جواب:۔

غیراللہ کے نام جو نیاز دی جاتی ہے، اگر اس سے مقصود اس بزرگ کی رُوح کو ایصالِ ثواب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جو صدقہ کیا جائے اس کا ثواب اس بزرگ کو بخش دینا مقصود ہو، تو یہ صورت تو جائز ہے۔(۱) اور اگر محض اس بزرگ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کے نام کی نذر نیاز دی جائے تاکہ وہ خوش ہوکر ہمارے کام بنائے، تو یہ ناجائز اور شرک ہے۔(۲)

  1. (۱) صرّح علماؤنا فی باب الحج عن الغیر بأن للإنسان أن یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ أو غیرھا کذا فی الھدایۃ۔ (شامی ج:۲ ص:۲۴۳، مطلب فی القرائۃ للمیت وإھداء ثوابھا لہ)۔
  2. (۲) واعلم أن النذر الذی یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤکذ من الدراھم والشمع ونحوھما إلٰی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا فھو بالْإجماع باطل وحرام۔ ما لم یقصدوا صرفھا لفقراء الأنام۔ وفی رد المحتار: قولہ باطل وحرام بوجوہ منھا أنہ نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لَا یجوز لأنہ عبادۃ والعبادۃ لَا تکون لمخلوق، ومنھا أن المنذور لہ میت والمیت لَا یملک ومنھا أنہ إن ظن أن المیت یتصرف فی الاُمور دون اللہ تعالٰی واعتقادہ ذٰلک کفر۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۲ ص:۴۳۹)۔