منّتوصدقہ
حلالمالصدقہکرنےسےبلادُورہوتیہے،حراممالسےنہیں!
سوال:۔
علماء سے شنید ہے کہ صدقہ رَدِّ بلا ہے، صدقہ ہر مرض کا علاج ہے، کیا یہ دُرست ہے؟ کسی شخص کو سایہ کا دورہ پڑتا ہے، جادُو کی تکلیف ہے، تو کیا صدقہ کرنے سے اس کی تکلیف یا دورہ میں فرق پڑے گا؟ کسی تکلیف کے لئے صدقہ کس طرح کرنا چاہئے؟ کیا صدقہ کی منّت ماننی بھی جائز ہے؟ مثلاً: اے خدا! اگر فلاں تکلیف اتنے عرصے میں دُور ہوجائے تو میں اتنا صدقہ کروں گا، جائز ہے؟ ایک شخص کہتا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ رشوت لے کر تکلیف دُور کرتا ہے، اگر صدقہ ہر مرض کا علاج ہے، صدقہ کرنے سے تکلیف پریشانی دُور ہوتی ہے، تو پھر گنجاپن بھی ایک بیماری ہے، تو کیا صدقہ کرنے سے سر پر بال اُگ آویں گے؟ صدقہ صرف غریبوں کا حق ہے یا مسجد میں بھی دیا جاسکتا ہے؟ مہربانی فرماکر صدقے کے بارے میں مندرجہ بالا سوالات کا مفصل جواب تحریر فرمادیں، صدقے سے کون سی تکلیف بیماری دُور ہوسکتی ہے اور کس طرح کرنا چاہئے؟
جواب:۔
صدقہ رَدِّ بلا کا ذریعہ ہے، لیکن ’’ہر مرض کا علاج ہے‘‘ یہ میں نے نہیں سنا، جو مصائب و تکالیف اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے پیش آتی ہیں وہ صدقہ سے ٹل جاتی ہیں، کیونکہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصّے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔(۱) منّت ماننا جائز ہے، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند نہیں فرمایا،(۲) اس لئے بجائے منّت ماننے کے صدقہ کرنا چاہئے۔ غریبوں اور محتاجوں کی خدمت بھی صدقہ ہے، اور مسجد کی خدمت بھی صدقہ ہے، مگر صدقہ پاک مال سے ہونا چاہئے، ناپاک اور حرام مال میں سے کیا ہوا صدقہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا۔(۳)
- (۱) وروی عن رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الصدقۃ تسد سبعین بابًا من السوء۔ رواہ الطبرانی فی الکبیر۔ وعن أنس بن مالک رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: باکروا بالصدقۃ فإنّ البلاء لَا یتخطی الصّدقۃ۔ رواہ البیھقی مرفوعًا وموقوفًا۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۱۹)۔ وعن أنس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن الصدقۃ لتطفیٔ غضب الرب وتدفع میتۃ السوء۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۱۶۸)
- (۲) عن أبی ھریرۃ وابن عمر رضی اللہ عنہما قالَا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تنذروا فإن النذر لَا یغنی من القدر شیئًا وإنما یستخرج بہ من البخیل۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۹۷، باب فی النذور، الفصل الأوّل)۔
- (۳) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، الفصل الأوّل)۔

